LIVE
Loading Breaking News...

اسٹاک ٹریڈنگ اور نوجوان: ناکامی کا احساس اور مالیاتی منڈی

News Image
ایک حالیہ تحقیق کے مطابق روزانہ اسٹاک ٹریڈنگ کرنے والے 18 سے 29 سال کی عمر کے دو تہائی نوجوان خود کو ناکام محسوس کرتے ہیں۔ ماہرین نے مالیاتی منڈیوں میں اس رجحان اور اس کے ذہنی اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
جدید دور میں مالیاتی منڈیوں تک آسان رسائی اور ڈیجیٹل ٹریڈنگ سسٹمز کے فروغ نے نوجوان نسل کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔ حال ہی میں سامنے آنے والی ایک دلچسپ اور تشویشناک تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ نوجوانوں میں روزانہ کی بنیاد پر اسٹاک ٹریڈنگ یعنی ڈے ٹریڈنگ کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، تاہم اس کے ساتھ ہی ان میں ناکامی کا احساس بھی شدت اختیار کر رہا ہے۔ تحقیق کے نتائج کے مطابق 18 سے 29 سال کی عمر کے تقریباً ایک چوتھائی نوجوان ہر روز اسٹاک کی خرید و فروخت میں مصروف رہتے ہیں۔ اس مطالعے میں شامل دو ہزار نوجوانوں کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا تو یہ بات سامنے آئی کہ روزانہ ٹریڈنگ کرنے والے نوجوانوں میں سے تقریباً چونسٹھ فیصد (64%) کا یہ ماننا ہے کہ وہ اس میدان میں کامیاب نہیں ہو پا رہے اور وہ خود کو ایک ناکام فرد تصور کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹاک مارکیٹ میں فوری منافع کمانے کی خواہش اور حقیقت میں مسلسل نقصان یا امید کے برعکس نتائج کا ملنا نوجوانوں کی ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر راتوں رات امیر ہونے کی کہانیاں بھی اس دباؤ میں مزید اضافہ کرتی ہیں۔ مالیاتی ماہرین نے نوجوان سرمایہ کاروں کو خبردار کیا ہے کہ وہ بغیر کسی گہرے تجزیے اور پیشہ ورانہ مشاورت کے روزانہ کی بنیاد پر خطرناک مالیاتی فیصلے کرنے سے گریز کریں۔ ڈے ٹریڈنگ کے لیے نہ صرف گہرے مارکیٹ کے مطالعے کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ اس میں خط مول لینے کی بھرپور صلاحیت بھی درکار ہوتی ہے۔ اگر مناسب تربیت اور حکمت عملی کے بغیر مارکیٹ میں قدم رکھا جائے تو اس سے نہ صرف سرمائے کا ضیاع ہوتا ہے بلکہ ذہنی دباؤ اور مایوسی بھی جنم لیتی ہے۔