Technology
کوانٹم ٹیکنالوجی اور اعتماد کا بحران: جنیوا عالمی فورم کے اہم نکات
جنیوا میں منعقدہ عالمی فورم میں مصنوعی ذہانت اور کوانٹم ٹیکنالوجی کے انسانی معاشرے پر اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید سائنسی ترقی میں سب سے بڑا چیلنج ٹیکنالوجی پر انسانی اعتماد کو مضبوط بنانا ہے۔
جنیوا میں حال ہی میں دنیا کے سب سے بڑے فورم 'اے آئی فار گڈ' کا انعقاد کیا گیا، جس میں اس بنیادی سوال پر غور کیا گیا کہ جدید ٹیکنالوجی بہترین طریقے سے انسانی معاشرے کی خدمت کیسے کر سکتی ہے۔ اگرچہ یہ خیال صنعتی انقلاب سے بھی پرانا ہے، لیکن موجودہ دور میں کوانٹم کمپیوٹنگ اور مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی نے اس بحث کو بالکل نئی جہت عطا کر دی ہے۔ سائنسدانوں اور پالیسی سازوں کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کے فوائد اس وقت تک عام انسان تک نہیں پہنچ سکتے جب تک اس پر مکمل اعتماد بحال نہ ہو۔ فورم کے دوران ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ کوانٹم ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی کامیابی صرف تیز رفتار حساب کتاب یا لامحدود ڈیٹا پروسیسنگ نہیں ہوگی، بلکہ یہ ہوگی کہ انسان اس کی سچائی اور سکیورٹی پر اندھا اعتماد کر سکیں۔ ڈیجیٹل دور میں غلط معلومات، سکیورٹی کے خدشات اور پرائیویسی کے مسائل نے عام صارفین کے دلوں میں جو خوف پیدا کیا ہے، اسے ختم کرنے کے لیے کوانٹم اور اے آئی سسٹمز میں شفافیت لانا انتہائی ضروری ہے۔ اس کانفرنس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ مستقبل کی ٹیکنالوجی کو نہ صرف طاقتور بلکہ محفوظ اور قابلِ بھروسہ بنایا جائے گا تاکہ صحت، تعلیم اور ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اس کے مثبت استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔ حکومتوں اور نجی اداروں کو اس مقصد کے لیے مل کر ضابطہ کار تیار کرنے ہوں گے تاکہ کوانٹم انقلاب کا فائدہ دنیا کے ہر خطے تک پہنچ سکے۔