Pakistan
پاکستان کی آبادی 2050 تک 390 ملین ہونے کا خدشہ، سینیٹ کو بریفنگ
سینیٹ کی ایک کمیٹی کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا ہے کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے سال 2050 تک پاکستان کی مجموعی آبادی تین سو نوے ملین تک پہنچ سکتی ہے۔ حکومتی حلقوں اور ماہرین نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آبادی میں اضافے کو روکنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی تیار کرنے پر زور دیا ہے۔
اسلام آباد: سینیٹ کی ایک خصوصی کمیٹی کو ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی کے حوالے سے تشویشناک اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں، جن کے مطابق اگر آبادی میں اضافے کی موجودہ شرح پر قابو نہ پایا گیا تو سال 2050 تک پاکستان کی کل آبادی تین سو نوے ملین تک پہنچ جائے گی۔ بریفنگ کے دوران اراکین کو بتایا گیا کہ ملک کو اس وقت سنگین آبادیاتی چیلنجز کا سامنا ہے جو معیشت، صحت اور تعلیم کے شعبوں پر شدید دباؤ ڈال رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے اس بڑھتے ہوئے بحران سے نمٹنے کے لیے ایک نئی اور مربوط حکمت عملی جلد متعارف کرائے جانے کا امکان ہے تاکہ خاندانی منصوبہ بندی کے بارے میں عوامی سطح پر آگاہی پیدا کی جا سکے۔ ماہرین اور گورনারز نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ نچلی سطح پر خاندانی منصوبہ بندی کے فوائد اجاگر کرنا انتہائی ضروری ہو چکا ہے۔ دریں اثنا، سینیٹ کمیٹی کے اجلاس کے دوران آبادی کے حوالے سے دستیاب اعداد و شمار میں خامیوں اور بعض شعبوں میں ڈیٹا کی عدم موجودگی پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔ قانون سازوں کا کہنا ہے کہ درست اور بروقت اعداد و شمار کے بغیر کسی بھی مؤثر پالیسی کی تشکیل ناممکن ہے۔ اس امر پر اتفاق کیا گیا ہے کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر تمام متعلقہ اداروں کو مل کر ایک ایسا موثر لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا جو نہ صرف آبادی کے بے لگام پھیلاؤ کو روکے بلکہ ملک کے وسائل اور آبادی کے درمیان توازن بھی قائم رکھ سکے۔