LIVE
Loading Breaking News...

آر بی آئی کے نئے قرض وصولی قوانین: نادہندگان کی ہراسانی پر سخت پابندی

News Image
ریزرو بینک آف انڈیا نے قرض کی وصولی کے حوالے سے ایک جامع اور سخت فریم ورک جاری کیا ہے جس کا مقصد قرض داروں کو ہراساں ہونے سے بچانا ہے۔ نئے قوانین کے تحت بینکوں اور مالیاتی اداروں کے لیے ریکوری کالز اور فون لاک کرنے کی تاکتیک پر کڑی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے قرض داروں کے حقوق کا تحفظ کرنے اور مالیاتی اداروں کے لیے منصفانہ اصولوں کو یقینی بنانے کی خاطر قرض کی وصولی کا ایک نیا اور جامع فریم ورک متعارف کرا دیا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد ان تمام شکایات کا ازالہ کرنا ہے جو اکثر بینکوں یا ریکوری ایجنٹس کی جانب سے قرض داروں کو ہراساں کرنے کے حوالے سے سامنے آتی تھیں۔ نئے قوانین کے نفاذ کے بعد اب کوئی بھی مالیاتی ادارہ یا ایجنسی مقررہ ضوابط سے ہٹ کر قرض کی وصولی کے لیے دباؤ نہیں ڈال سکے گی۔ نئے فریم ورک کے تحت بینکوں اور نان بینکنگ فنانس کمپنیز (این بی ایف سی) کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ قرض کی اقساط (ای ایم آئی) کی وصولی کے لیے صبح اور شام کے مخصوص اوقات کے علاوہ کالز نہ کریں۔ اس کے علاوہ ریکوری ایجنٹس کی جانب سے توہین آمیز رویہ، دھمکیاں دینا یا دن میں بار بار فون کرنے جیسے ہتھکنڈوں پر بھی سخت پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ آر بی آئی نے ڈیجیٹل قرض دینے والے اداروں کی جانب سے فون کا ڈیٹا یا کانٹیکٹ لسٹ تک رسائی حاصل کرکے قرض داروں کے رشتے داروں کو تنگ کرنے کے طریقوں کو بھی غیر قانونی قرار دیا ہے۔ قرض کی وصولی کے دوران ڈیجیٹل ہراسانی اور فونز کو ریموٹلی لاک کرنے کی مشق پر بھی کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔ بہت سے ادارے قرض کی ادائیگی میں تاخیر پر صارفین کے سمارٹ فونز کو بلاک کر دیتے تھے تاکہ انہیں مجبور کیا جا سکے، لیکن اب آر بی آئی نے اس قسم کی حربہ سازی کے خلاف وارننگ جاری کر دی ہے۔ ریگولیٹر نے واضح کیا ہے کہ مالیاتی اداروں کو قانونی دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے ہی تمام اقدامات اٹھانے ہوں گے اور کسی بھی ناخوشگوار صورتحال یا ضابطہ شکاری کی صورت میں متعلقہ بینک کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ اس نئے فریم ورک کا مقصد جہاں ایک طرف مالیاتی نظام میں ڈسپلن کو برقرار رکھنا ہے، وہیں دوسری طرف عام آدمی کی ذہنی اذیت کا خاتمہ بھی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ان سخت اصولوں سے نہ صرف قرض داروں کو تحفظ ملے گا بلکہ قرض کی وصولی کے پورے عمل میں شفافیت بھی آئے گی۔ آر بی آئی نے تمام بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے ریکوری عملے کو ان نئے قواعد و ضوابط کی مکمل تربیت فراہم کریں تاکہ کسی بھی قانون کی خلاف ورزی سے بچا جا سکے۔