World
اسرائیل کا غاصبانہ قبضہ اور بڑھتی ہوئی مزاحمت کا تجزیہ
موجودہ تجزیے کے مطابق اسرائیل ایک ایسے لامتناہی چکر میں پھنس چکا ہے جسے اس نے خود تخلیق کیا ہے۔ خطے میں جاری کشیدگی اور مسلح مزاحمت کی بنیادی وجہ طویل المدتی اور غیر قانونی قبضہ ہے۔
عالمی امور کے ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل ایک ایسے خطرناک اور لامتناہی چکر میں بری طرح پھنس چکا ہے جسے اس نے خود اپنی پالیسیوں کے ذریعے تخلیق کیا ہے۔ دہائیوں سے جاری غاصبانہ قبضہ، بنیادی انسانی حقوق کی پامالی اور من مانی کارروائیاں خطے میں امن کے قیام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ جب تک اس بنیادی سبب کا خاتمہ نہیں کیا جاتا، اس وقت تک پرامن حل کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، طاقت کے استعمال اور جبر کے ذریعے کسی بھی قوم کے حقوق کو زیادہ دیر تک نہیں دبایا جا سکتا۔ اسرائیلی ریاستی پالیسیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مایوسی اور محرومی خطے میں نئی نسل کو مزاحمت کی طرف مائل کر رہی ہے۔ یہ وہی چکر ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے اور اس کے اثرات صرف مقامی سطح تک محدود نہیں ہیں بلکہ اس نے پوری عالمی سلامتی کو خطرے میں ڈال رکھا ہے۔
بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بارہا اس بات پر زور دے چکی ہیں کہ اس تنازع کا واحد حل منصفانہ اور پائیدار امن میں پنہاں ہے، جو کہ قبضے کے خاتمے اور فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کی بحالی سے مشروط ہے۔ تاہم، زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آتے ہیں جہاں کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور دونوں اطراف کے لوگ اس خونی چکر کا نشانہ بن رہے ہیں۔
آخر کار، یہ سوال اپنی جگہ برقرار ہے کہ کب تک خطے کے باسی اس عذاب سے دوچار رہیں گے۔ جب تک اسرائیلی قیادت اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرتی کہ عسکری طاقت سے سیاسی مسائل کا حل ممکن نہیں، تب تک یہ چکر مزید تباہی و بربادی کا باعث بنتا رہے گا۔ عالمی طاقتوں کو بھی اس سنجیدہ معاملے پر دوغلی پالیسی ترک کر کے سنجیدہ اور منصفانہ اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ خطے میں مستقل امن کا راستہ ہموار ہو سکے۔