LIVE
Loading Breaking News...

سویڈن میں سخت امیگریشن پالیسیاں اور ہنر مند تارکین وطن

News Image
سویڈن کی سیاسی جماعت سویڈن ڈیموکریٹس کے امیگریشن ترجمان لڈوگ ایسپلنگ نے کہاہے کہ سخت ورک پرمٹ اور شہریت کے قوانین کا ہنر مند تارکین وطن پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ ایسے افراد کو ملک میں نہیں دیکھنا چاہتے جو محض نرم قوانین کا فائدہ اٹھا کر یہاں آئے ہیں۔
سویڈن میں تارکین وطن کے حوالے سے سیاسی ماحول گرم ہوتا جا رہا ہے اور حالیہ انتخابات کے تناظر میں سیاسی جماعتوں کے موقف سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ سویڈن کی معروف جریدے کی جانب سے الیکشن انٹرویو کے سلسلے میں سویڈن ڈیموکریٹس کے امیگریشن ترجمان لڈوگ ایسپلنگ سے خصوصی گفتگو کی گئی۔ اس گفتگو کے دوران سویڈن کے نئے اور سخت ورک پرمٹ اور شہریت کے قوانین پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جو کہ ملک میں تارکین وطن کی پالیسیوں میں ایک بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں۔ اس انٹرویو میں لڈوگ ایسپلنگ نے ان خدشات کو مسترد کر دیا کہ نئے قوانین سے ملک میں ہنر مند لیبر کی آمد متاثر ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے متعارف کروائے جانے والے سخت ضوابط کا مقصد ملک میں غیر ضروری اور کم معیار کے تارکین وطن کے داخلے کو روکنا ہے، جبکہ حقیقی اور اعلیٰ درجے کے ہنر مند افراد کے لیے راہیں اب بھی کھلی ہوئی ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک کے مفاد کو سب سے اوپر رکھا جائے گا۔ ترجمان نے انتہائی واضح الفاظ میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی شخص ماضی میں صرف اس لیے سویڈن آیا تھا کہ یہاں شہریت اور امیگریشن کے قوانین انتہائی نرم تھے، تو اب اس کی ملک میں کوئی ضرورت نہیں۔ ان کے مطابق، ملک کو ایسے وفادار اور مستقل شہریوں کی ضرورت ہے جو سویڈن کی ترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہتے ہیں نہ کہ صرف قوانین کی نرمی کا فائدہ اٹھانا مقصود ہو۔ اس پالیسی بیان کے بعد سویڈن کے سیاسی اور سماجی حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے، جہاں کچھ لوگ اس سخت مؤقف کی تائید کر رہے ہیں تو وہیں انسانی حقوق کی تنظیمیں اور کچھ اپوزیشن جماعتیں اس پر شدید تنقید کر رہی ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ آنے والے انتخابات میں امیگریشن کا یہ موصوع سب سے اہم اور فیصلہ کن ثابت ہو گا، جو سویڈن کے مستقبل کی سمت کا تعین کرے گا۔