Technology
میٹا کو بچوں کی ذہنی صحت کے مقدمے میں 567 ملین ڈالر جرمانہ
نیو میکسیکو کی ایک عدالت نے فیس بک اور انسٹاگرام کی ہولڈنگ کمپنی میٹا کو بچوں کی ذہنی صحت کو نقصان پہنچانے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے 567 ملین ڈالر جرمانے کی سزا سنائی ہے۔ اس تاریخی فیصلے کو بچوں کے آن لائن تحفظ کے لیے ایک بہت بڑی قانونی جیت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکہ کی ایک عدالت نے سوشل میڈیا کی بڑی کمپنی میٹا (Meta) کو بچوں کی ذہنی صحت کو نقصان پہنچانے کے الزام میں 567 ملین ڈالر کا بھاری جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ نیو میکسیکو میں ہونے والے اس تاریخی مقدمے کے دوران عدالت نے یہ پایا کہ فیس بک اور انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارمز کے ڈیزائن اور فیچرز اس طرح کے بنائے گئے ہیں جو کم عمر صارفین کو اپنے سحر میں جکڑ لیتے ہیں اور ان کی ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ عدالت کی جانب سے یہ فیصلہ ایک طویل قانونی جنگ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کمپنیوں کی جانب سے بچوں کے تحفظ میں غفلت برتنے کے شواہد پیش کیے گئے تھے۔
اس مقدمے کے دوران استغاثہ کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ میٹا نے دانستہ طور پر اپنے پلیٹ فارمز پر ایسے الگورتھمز کا استعمال کیا جو بچوں میں ڈپریشن، اضطراب، اور دیگر ذہنی مسائل کا سبب بنتے ہیں۔ والدین اور ماہرینِ نفسیات کی جانب سے طویل عرصے سے یہ شکایات کی جا رہی تھیں کہ یہ کمپنیاں کم عمر صارفین کے تحفظ کو یقینی بنانے میں ناکام رہی ہیں اور منافع کے حصول کے لیے بچوں کی فلاح و بہبود کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ عدالت نے ان تمام شواہد کا بغور جائزہ لینے کے بعد میٹا کے خلاف یہ فیصلہ صادر کیا جو کہ سوشل میڈیا انڈسٹری کے لیے ایک بڑی وارننگ کی حیثیت رکھتا ہے۔
اس فیصلے کے بعد پوری دنیا میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ضوابط اور بچوں کے آن لائن تحفظ کے حوالے سے ایک بار پھر شدید بحث چھڑ گئی ہے۔ قانون سازوں اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے اس عدالتی حکم کو ایک شاندار کامیابی قرار دیا ہے اور توقع ظاہر کی ہے کہ اس سے دیگر بڑی ٹیک کمپنیاں بھی اپنے پلیٹ فارمز پر حفاظتی اقدامات کو مزید سخت کرنے پر مجبور ہوں گی۔ دوسری جانب، قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس فیصلے سے آنے والے دنوں میں سوشل میڈیا کے احتساب کے لیے مزید راہیں ہموار ہوں گی اور کمپنیاں صارفین خصوصاً بچوں کی ذہنی صحت کے حوالے سے زیادہ ذمہ دارانہ رویہ اپنانے پر مجبور ہوں گی۔