World
انڈونیشیا میں نقل مکانی اور انسانی سرمائے کی ترقی کی نئی پالیسی
انڈونیشیا نے علاقائی ترقی کے نئے انجن بنانے کے لیے روایتی نقل مکانی کے پروگراموں کو انسانی سرمائے کی ترقی کی طرف منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کا مقصد ان علاقوں میں رہنے والے شہریوں کو معیاری تعلیم اور ہنر فراہم کر کے معاشی ترقی کو یقینی بنانا ہے۔
جکارتا: انڈونیشیا کی حکومت نے ملک کے مختلف حصوں میں نقل مکانی کی پالیسی کے روایتی انداز کو تبدیل کرتے ہوئے اپنی توجہ انسانی سرمائے کی ترقی پر مرکوز کر دی ہے۔ اس اہم تبدیلی کا مقصد ان علاقوں کو علاقائی معاشی ترقی کے نئے انجنوں میں تبدیل کرنا ہے جہاں ماضی میں نقل مکانی کے پروگرام نافذ کیے گئے تھے۔ قومی ترقیاتی منصوبہ بندی کے وزیر اور نیشنل ڈویلپمنٹ ایجنسی کے سربراہ کے مطابق، اس نئی حکمت عملی کا بنیادی مقصد محض آبادی کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا نہیں بلکہ وہاں کے باسیوں کو بہتر معیار زندگی، تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ماضی میں نقل مکانی کے بیشتر منصوبے بنیادی ڈھانچے اور زمینی آبادکاری تک محدود رہے، جس کی وجہ سے پائیدار معاشی فوائد حاصل نہیں ہو سکے۔ نئی سوچ کے تحت ان علاقوں میں انسانی وسائل کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے خصوصی تربیتی پروگرام شروع کیے جا رہے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد نوجوان نسل کو جدید ہنر سکھانا ہے تاکہ وہ مقامی سطح پر روزگار کے بہتر مواقع پیدا کر سکیں اور معیشت میں بھرپور کردار ادا کر سکیں۔
اس پالیسی کے نفاذ کے لیے متعلقہ سرکاری محکمے باقاعدہ لائحہ عمل تیار کر رہے ہیں، جس میں نجی شعبے اور مقامی اداروں کو بھی شامل کیا جا رہا ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ جب تک ان علاقوں کے باسیوں کو جدید تعلیم اور طبی سہولیات میسر نہیں ہوں گی، تب تک متوازن اور پائیدار ترقی کا ہدف حاصل کرنا ممکن نہیں۔ انڈونیشیا کی اس نئی حکمت عملی کو بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا جا رہا ہے کیونکہ اس سے ملک کے پسماندہ اور دور افتادہ علاقوں میں ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔