World
یمن کا صحت بحران: مہنگے علاج کے باعث لوگ روایتی ادویات اپنانے پر مجبور
یمن میں طویل تنازعے اور معاشی بحران کے باعث صحت کا نظام مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ مہنگی ادویات اور علاج کی عدم دستیابی کے باعث عام مریض گھریلو اور روایتی نسخوں پر انحصار کرنے لگے ہیں۔
یمن میں برسوں سے جاری تنازعے اور سنگین معاشی بحران نے ملک کے انفراسٹرکچر کے ساتھ ساتھ صحت کے شعبے کو بھی تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ملک بھر میں لاکھوں افراد ایسے ہیں جو مہنگی ادویات خریدنے کی سکت نہیں رکھتے یا پھر ان تک رسائی سے محروم ہیں۔ سرکاری اور نجی اسپتالوں میں ادویات کی قلت اور ڈاکٹروں کی عدم موجودگی نے عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں مجبوراً اب بیمار افراد نے روایتی اور متبادل ادویات کا رخ کرنا شروع کر دیا ہے۔
حاصل ہونے والی اطلاعات کے مطابق بہت سے مریض جڑی بوٹیوں، پرانے گھریلو نسخوں اور دیسی ٹوٹکوں کے ذریعے اپنا علاج کرنے پر مجبور ہیں۔ ایسے افراد جو ہسپتالوں کے بھاری اخراجات برداشت نہیں کر سکتے، وہ ان روایتی طریقوں کو اپنی آخری امید سمجھ رہے ہیں۔ اگرچہ یہ متبادل طریقے ہر بیماری کا علاج فراہم کرنے سے قاصر ہیں، تاہم علاج کی کوئی اور سبیل نہ ہونے کی وجہ سے لوگ اسی پر اکتفا کرنے پر مجبور ہیں۔ طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس نوعیت کا غیر سائنسی علاج بعض اوقات خطرناک طبی پیچیدگیوں کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
دوسری جانب، عالمی امدادی تنظیمیں اور بین الاقوامی ادارے یمن میں انسانی بحران بالخصوص صحت کے شعبے کی زبوں حالی پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ تنظیموں کا کہنا ہے کہ اگر یمن کے لیے فوری طبی امداد اور فنڈز فراہم نہ کیے گئے تو صحت کا نظام مکمل طور پر بیٹھ جائے گا، جس سے اموات کی شرح میں مزید خطرناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں لوگوں کی اکثریت دو وقت کی روٹی کے لیے بھی پریشان ہے، لہذا علاج معالجے کے اخراجات اٹھانا ان کے بس سے باہر کی بات بن چکا ہے۔
حالات کی اس سنگینی کے پیش نظر یمنی عوام کی ایک بڑی تعداد اب صرف روایتی معالجین اور مقامی طبی جڑی بوٹیوں فروشوں پر انحصار کر رہی ہے۔ عوامی حلقوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یمن میں ادویات کی فراہمی اور بنیادی صحت کے مراکز کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کرے تاکہ معصوم شہریوں کو اس انسانی المیے سے نجات دلائی جا سکے۔