LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں دودھ، تیل اور گھی غیر معیاری قرار، پی سی ایس آئی آر رپورٹ

News Image
پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) کی تازہ ترین تحقیق کے مطابق ملک بھر میں فروخت ہونے والے پیک شدہ خوردنی تیل، گھی اور دودھ کا 36 فیصد حصہ غیر معیاری پایا گیا ہے۔ اس تشویشناک انکشاف کے بعد شہریوں کی صحت اور خوراک کے معیار پر سنگین سوالیہ نشان اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
اسلام آباد (نیکسا نیوز اردو) پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) کی جانب سے جاری کردہ ایک تشویشناک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک کے مختلف بازاروں میں فروخت ہونے والے پیک شدہ خوردنی تیل، گھی اور دودھ کا 36 فیصد حصہ مقررہ معیار پر پورا نہیں اترتا۔ یہ انکشاف عام شہریوں کی صحت اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کے معیار پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے، جس پر متعلقہ اداروں کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ معیاری خوراک کی فراہمی بنیادی انسانی حق ہے، اور اس طرح کے اعداد و شمار انتہائی تشویشناک ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، روزمرہ استعمال ہونے والی ان بنیادی غذائی اشیاء میں ملاوٹ اور ناقص معیار کے عناصر پائے گئے ہیں، جو طویل المدتی بنیادوں پر انسانی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ دودھ، تیل اور گھی ایسے اجزاء ہیں جو ہر گھر میں روزانہ کی بنیاد پر استعمال ہوتے ہیں، اور ان کا غیر معیاری ہونا براہ راست عوام کی صحت بالخصوص بچوں اور بزرگوں کے لیے سنگین طبی مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔ طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ملاوٹ شدہ اور غیر معیاری خوراک کے استعمال سے پیٹ کی بیماریاں، جگر کے امراض اور دیگر پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر عوامی حلقوں اور سماجی تنظیموں نے حکومت اور فوڈ اتھارٹیز سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ صرف رپورٹ جاری کرنے یا انتباہ دینے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا، بلکہ فیکٹریوں اور پروڈکشن یونٹس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی ضرورت ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ملاوٹ مافیا کے خلاف ملک گیر سطح پر بلا امتیاز کریک ڈاؤن کیا جائے تاکہ بازاروں میں صرف خالص اور معیاری اشیاء کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے اور عوام کی جانوں سے کھیلنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے گا۔