Business
کم کاربن معیشت کی تعمیر اور عالمی منڈی کا چیلنج
پہلی صنعتی انقلاب کے بعد سے ٹیکنالوجی اور مصنوعات پوری دنیا میں پھیلی ہیں لیکن ان کی تیاری اور مارکیٹنگ چند ہاتھوں تک محدود رہی ہے۔ انسانیت کو اس پرانے طراز کو توڑنا ہوگا تاکہ کم کاربن معیشت کی منصفانہ تعمیر ممکن ہو سکے۔
پہلی صنعتی انقلاب کے آغاز سے لے کر اب تک، دنیا بھر کے کونے کونے تک جدید ٹیکنالوجی، اشیاء اور ایجادات پہنچی ہیں، لیکن اس بات کی صلاحیت کہ نئی مصنوعات کو ڈیزائن کیسے کیا جائے، انہیں کیسے بنایا جائے، مارکیٹ میں کیسے لایا جائے اور ان سے زیادہ سے زیادہ معاشی قدر کیسے نکالی جائے، ہمیشہ سے چند مخصوص خطوں اور طاقتوں تک ہی محدود رہی ہے۔ اس تاریخی عدم توازن نے عالمی تجارت اور معیشت میں ایک گہرا خلیج پیدا کر رکھا ہے جہاں چند ممالک یا ادارے تمام تر منافع سمیٹتے ہیں جبکہ باقی دنیا صرف ایک صارف یا خام مال فراہم کرنے والے کے طور پر رہ جاتی ہے۔
آج جب دنیا موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نبرد آزما ہے اور ایک پائیدار اور کم کاربن معیشت کی طرف منتقلی ناگزیر ہو چکی ہے، تو یہ سوال سب سے اہم بن گیا ہے کہ اس نئی سبز معیشت کی تعمیر کون کرے گا؟ کیا پرانے صنعتی ماڈل کو ہی دہرایا جائے گا جس میں ترقی یافتہ ممالک تمام گرین ٹیکنالوجیز کے پیٹنٹ اپنے پاس رکھیں گے اور ترقی پذیر ممالک کو محض خریدار بنا دیا جائے گا؟ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ اگر انسانیت نے اس فرسودہ اور غیر منصفانہ پیٹرن کو نہ توڑا، تو کم کاربن معیشت کے فوائد بھی مساوی طور پر تقسیم نہیں ہو سکیں گے اور عالمی سطح پر عدم مساوات مزید بڑھ جائے گی۔
ایک منصفانہ کم کاربن معیشت کی تشکیل کے لیے ضروری ہے کہ پیداواری صلاحیتوں، ریسرچ اور گرین ٹیکنالوجی کی منتقلی کو جمہوری بنایا جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ترقی پذیر اور پسماندہ خطوں کو صرف ماحول دوست مصنوعات خریدنے پر مجبور کرنے کے بجائے، انہیں خود ایسی ٹیکنالوجیز ڈیزائن اور تیار کرنے کے قابل بنایا جائے۔ جب تک عالمی سطح پر پیداواری صلاحیتوں اور اقتصادی فوائد کی یہ مرکزیت ختم نہیں کی جاتی، تب تک ماحولیاتی بحران کا پائیدار اور منصفانہ حل تلاش کرنا انتہائی مشکل ہوگا۔
نیکسورہ نیوز اردو کے مطابق، دنیا کے پالیسی سازوں کو اب روایتی معاشی سوچ سے بالاتر ہو کر ایک نئے عالمی معاہدے پر غور کرنا ہوگا۔ کم کاربن معیشت کی طرف یہ سفر صرف کاربن کے اخراج کو کم کرنے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ دنیا کے معاشی ڈھانچے کو از سر نو تشکیل دینے کا ایک تاریخی موقع ہے، جہاں ترقی کے ثمرات دنیا کے ہر خطے تک یکساں طور پر پہنچ سکیں۔