LIVE
Loading Breaking News...

یوکرین میں جبری فوجی بھرتی کی وائرل ویڈیو اور عوامی تشویش

News Image
یوکرین میں جبری فوجی بھرتیوں کے حوالے سے سامنے آنے والی ایک وائرل ویڈیو نے شدید عوامی تشویش کو جنم دیا ہے۔ اس ویڈیو میں مبینہ طور پر بھرتی کے افسران کی طرف سے سختی اور زیادتی کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔
یوکرین میں جاری جنگ کے دوران فوج میں جبری بھرتی کے طریقوں کے خلاف عوامی سطح پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک ایسی وائرل ویڈیو سامنے آئی ہے جس نے ملک بھر میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح بھرتی کے اہلکار سڑکوں پر عام شہریوں کو زبردستی حراست میں لے رہے ہیں، جسے مقامی سطح پر 'بسفیکیشن' کا نام دیا گیا ہے۔ ویڈیو میں ایک خاتون کو اپنے ساتھی کے دفاع میں چیختے اور مدد کے لیے پکارتے ہوئے بھی سنا جا सकता ہے۔ یہ مناظر یوکرین کے اندر جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے تناظر میں شہریوں کو درپیش مشکلات کی عکاسی کرتے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حربے نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں بلکہ اس سے عوام کا سرکاری اداروں پر اعتماد بھی متزلزل ہو رہا ہے۔ دوسری جانب، حکام کی طرف سے اس قسم کے واقعات پر وقتاً فوقتاً وضاحتیں بھی سامنے آتی رہتی ہیں، لیکن جنگی حالات کے پیش نظر فوج میں نفری کی کمی پوری کرنے کے لیے دباؤ بدستور برقرار ہے۔ بین الاقوامی میڈیا اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اس واقعے اور اس جیسے دیگر پچھلے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، اور یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ بھرتی کے نظام کو مزید شفاف اور انسانی بنیادوں پر استوار کیا جائے تاکہ عام شہریوں کو اس قسم کی ہراسانی کا سامنا نہ کرناپڑے، کیونکہ جنگ کے اس ماحول میں پہلے ہی عوام شدید ذہنی اور جسمانی دباؤ کا شکار ہیں۔