World
نیپال کی اقتصادی سفارت کاری اور خارجہ پالیسی کی نئی ترجیحات
نیپال کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ملک کی خارجہ پالیسی میں اقتصادی سفارت کاری کو مرکزی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد شہریوں کے معیار زندگی کو بلند کرنا اور تجارت و روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔
کاٹھمنڈو: نیپال کے وزیر خارجہ شیشیر کھنال نے اس بات پر زور دیا ہے کہ موجودہ دور میں اقتصادی سفارت کاری ملک کی خارجہ پالیسی کا سب سے اہم اور مرکزی حصہ بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تبدیلی کا بنیادی مقصد نیپالی شہریوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانا اور ملک کے اندر تجارت، سرمایہ کاری اور روزگار کے وسیع تر مواقع پیدا کرنا ہے۔
حکام کے مطابق، نیپال اب روایتی سفارتی طریقوں سے آگے بڑھ کر معاشی ترقی اور بین الاقوامی شراکت داری کو ترجیح دے رہا ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت بیرونی سرمایہ کاری کو فروغ دینے، برآمدات میں اضافے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے ذرائع تلاش کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ ملکی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے۔
وزیر خارجہ نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ نیپال خطے اور دنیا بھر کے دیگرممالک کے ساتھ معاشی تعاون کو مزید گہرا کرے گا تاکہ کاروباری طبقے اور نوآموز کاروباری افراد کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جا سکے۔ اس پالیسی سے نہ صرف ملکی معیشت کو سہارا ملے گا بلکہ بین الاقوامی سطح پر نیپال کے تجارتی تعلقات بھی مزید مستحکم ہوں گے۔