LIVE
Loading Breaking News...

سکول ریفارم اور پرنسپلز کا کردار: ڈپٹی وزیر تعلیم کا بیان

News Image
انڈونیشیا کے ڈپٹی وزیر برائے ابتدائی اور ثانوی تعلیم فجر رضا الحق نے کہا ہے کہ تعلیمی اداروں میں حقیقی تبدیلی اسکول کے سربراہان کے بغیر ناممکن ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پرنسپل حضرات کو اصلاحات کی قیادت کرنی چاہیے اور معاشرے کو متحرک کرنا چاہیے۔
جکارتا: انڈونیشیا کے ڈپٹی وزیر برائے ابتدائی اور ثانوی تعلیم فجر رضا الحق نے کہا ہے کہ تعلیمی اداروں کی تبدیلی اور بہتری کا سفر اسکول کے سربراہان سے ہی شروع ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے پرنسپلانٹس جو تبدیلیاں لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور معاشرے کو متحرک کرنے کا ہنر جانتے ہیں، وہی دراصل ایک بہتر تعلیمی مستقبل کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار ملک میں جاری تعلیمی اصلاحات کے تناظر میں کیا۔ حکام کے مطابق، ڈپٹی وزیر نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ صرف انتظامی احکامات جاری کرنے سے اسکولوں کا معیار بلند نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ قائدانہ صلاحیتوں کے حامل افراد کو آگے لایا جائے جو اساتذہ، طلباء اور والدین کو ایک مشترکہ مقصد کے تحت یکجا کر سکیں۔ اسکول کے پرنسپل کو محض ایک منتظم نہیں بلکہ ایک تعلیمی رہنما کا کردار ادا کرنا ہوگا جو جدید تقاضوں کے مطابق نصاب اور تدریجی طریقوں کو نافذ کرنے کی اہلیت رکھتا ہو۔ حکومت کی جانب سے تعلیمی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس حکمت عملی کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ نچلی سطح پر تعلیمی اداروں کو خود مختاری دی جائے تاکہ وہ مقامی ضروریات کے مطابق فیصلے کر سکیں۔ وزارت تعلیم کا یہ بھی ماننا ہے کہ اساتذہ کی تربیت اور پرنسپل حضرات کی صلاحیتوں میں نکھار لائے بغیر ڈیجیٹل دور کے تقاضوں کو پورا کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس موقع پر ڈپٹی وزیر نے تمام متعلقہ اداروں اور محکموں کو ہدایت کی کہ وہ اسکول کے سربراہان کو درکار سہولیات اور وسائل کی فراہمی کو یقینی بنائیں تاکہ وہ کسی رکاوٹ کے بغیر تعلیمی عمل کو بہتر بنا سکیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر اسکولوں کی قیادت درست سمت میں کام کرتی رہی تو آنے والے چند برسوں میں ملک کے تعلیمی معیار میں نمایاں اور مثبت تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں گی۔