Technology
بھارتی ہائیڈروجن ٹرین کا کامیاب سفر اور آئندہ کے منصوبے
بھارتی وزیر ریلوے نے راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب دیتے ہوئے ہائیڈروجن ٹرین منصوبے کی پیشرفت پر روشنی ڈالی ہے۔ یہ ماحول دوست ٹرین جند سے سونی پت کے روٹ پر کامیابی کے ساتھ کام کر رہی ہے۔
نئی دہلی: بھارتی وزیر ریلوے اشونی ویشنو نے راجیہ سبھا میں اپنے ایک تحریری جواب میں ملک کے پہلے ہائیڈروجن ٹرین منصوبے کے حوالے سے اہم تفصیلات فراہم کی ہیں۔ انہوں نے ایوان کو بتایا کہ بھارت کی یہ ماحول دوست ہائیڈروجن ٹرین اپنے کمرشل آپریشنز کے آغاز کے بعد سے اب تک تقریباً ڈھائی ہزار کلومیٹر کا فاصلہ کامیابی کے ساتھ طے کر چکی ہے۔ اس پائلٹ منصوبے کا بنیادی مقصد وسیع تر ریلوے نیٹ ورک میں ہائیڈروجن پروپلشن یعنی ہائیڈروجن ایندھن کی افادیت اور قابلِ عمل ہونے کا جائزہ لینا ہے۔ یہ جدید ٹرین فی الحال ہریانہ کے علاقے جند اور سونی پت کے درمیان چلائی جا رہی ہے، جہاں مسافروں کو جدید ترین سفری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس ہائیڈروجن ٹرین کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ مکمل طور پر ماحول دوست ہے اور اس کے آپریشنز کے دوران کاربن کا اخراج بالکل نہیں ہوتا، جو کہ ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ بھارتی وزارت ریلوے اس منصوبے کے ذریعے ملک کے مختلف روٹس پر گرین انرجی کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے پرامید ہے تاکہ روایتی فوسل فیول پر انحصار کم کیا جا سکے۔ حکام کا ماننا ہے کہ اس پائلٹ پروجیکٹ کے نتائج کی روشنی میں مستقبل میں ملک کے دیگر حصوں میں بھی ہائیڈروجن ٹرینوں کے نیٹ ورک کو وسعت دی جائے گی، جس سے نہ صرف پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام بہتر ہوگا بلکہ سبز توانائی کے اہداف کے حصول میں بھی مدد ملے گی۔