LIVE
Loading Breaking News...

یورپ میں ڈرون واقعات: بلغاریہ اور جرمنی میں روسی کشیدگی پر تشویش

News Image
یورپی ممالک بلغاریہ اور جرمنی میں پراسرار ڈرونز کی پروازوں نے سکیورٹی خدشات کو شدید کر دیا ہے۔ ان واقعات سے یہ خوف بڑھ رہا ہے کہ روس اور یوکرین کی جنگ اب براہ راست نیٹو ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔
بلغاریہ اور جرمنی کے فضائی حدود میں हाल ہی میں سامنے آنے والے ڈرون کے واقعات نے پورے یورپ میں سکیورٹی کے حوالے سے شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ ان تازہ ترین واقعات نے دفاعی ماہرین اور حکومتی حلقوں میں اس خوف کو جنم دیا ہے کہ ماسکو کی جانب سے یوکرین کے خلاف جاری جنگ اب دائرہ کار بڑھاتے ہوئے نیٹو کے رکن ممالک کو بھی اپنی زد میں لا سکتی ہے۔ یورپی دارالحکومتوں میں ان واقعات کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے اور دفاعی تیاریوں کا از سر نو جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، بلغاریہ اور جرمنی جیسے اہم یورپی ممالک میں نامعلوم یا مشکوک ڈرونز کی نقل و حرکت نے فضائی نگرانی کے نظام پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ اگرچہ ان ڈرونز کی اصل نوعیت اور ان کے پیچھے کارفرما محرکات کے بارے میں حتمی تحقیقات ابھی جاری ہیں، لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس قسم کے اشتعال انگیز اقدامات سے خطے میں پہلے سے موجود تناؤ میں مزید اضافہ ہوگا۔ یورپی یونین اور نیٹو کے عہده داران انم تمام صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ بڑے بحران سے بروقت نبردآزما ہوا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یوکرین تنازعے کے آغاز سے ہی یہ خطرہ موجود تھا کہ جنگ کی لپیٹ دیگر یورپی ممالک تک بھی پھیل سکتی ہے۔ اب جبکہ بلغاریہ اور جرمنی کی سرزمین یا فضائی حدود کے قریب اس طرح کے واقعات رونما ہو رہے ہیں، تو اس سے اجتماعی دفاع اور سلامتی کے معاہدوں پر بھی بحث چھڑ گئی ہے۔ نیٹو اتحادی اس بات کا ادراک رکھتے ہیں کہ فضائی حدود کی خلاف ورزیوں پر سخت اور متفقہ ردعمل دینا انتہائی ضروری ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ جارحیت کو روکا جا سکے اور خطے کے عوام کو سکیورٹی کی یقین دہانی کرائی جا سکے۔