Business
امریکہ میں جولائی میں ملازمتوں میں کمی اور شرح سود کا جائزہ
جولائی کے مہینے میں امریکہ میں غیر متوقع طور پر ملازمتوں کے مواقع کم ہو گئے ہیں جس کے بعد مالیاتی منڈیوں میں شرح سود میں مزید اضافے کی توقعات کو کم کر دیا گیا ہے۔ اس معاشی تبدیلی نے عالمی سطح پر سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کر لی ہے۔
امریکہ میں معاشی محاذ سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق جولائی کے مہینے میں ملازمتوں کے شعبے میں غیر متوقع طور پر کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس تازہ ترین اعداد و شمار نے معاشی ماہرین کو بھی حیرت میں ڈال دیا ہے کیونکہ پہلے یہ توقع کی جا رہی تھی کہ لیبر مارکیٹ میں استحکام کا رجحان جاری رہے گا۔ اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد وال اسٹریٹ اور دیگر عالمی مالیاتی منڈیوں میں ہلچل مچ گئی ہے اور سرمایہ کاروں نے اپنے آئندہ کے لائحہ عمل پر نظرثانی شروع کر دی ہے۔ ملازمتوں کے اعداد و شمار کمزور آنے کے بعد مالیاتی منڈیوں کے شرکاء نے آئندہ ماہ ہونے والے فیصلوں میں شرح سود میں مزید اضافے کی توقعات کو نمایاں طور پر کم کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مرکزی بینک یعنی فیڈرل ریزرو کی جانب سے اب سود کی شرح کو مزید بڑھانے کے فیصلے پر ازسرنو غور کیا جا سکتا ہے کیونکہ معیشت کے سست روی کا شکار ہونے کے آثار واضح ہونے لگے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں افراط زر پر قابو پانے کے لیے مسلسل شرح سود میں اضافہ کیا جا رہا تھا جس کے اثرات اب معیشت اور ملازمتوں کی مارکیٹ پر براہ راست پڑ رہے ہیں۔ کاروباری حلقوں اور ماہرین اقتصادیات کا ماننا ہے کہ اگر معاشی سست روی کا یہ سلسلہ جاری رہا تو مرکزی بینک کو اپنی پالیسیوں میں نرمی لانا پڑے گی۔ اس صورتحال کا اثر صرف امریکی معیشت تک محدود نہیں رہے گا بلکہ بین الاقوامی تجارت اور اسٹاک مارکیٹس پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔ آنے والے دنوں میں امریکی معیشت کے مزید اعداد و شمار جاری کیے جائیں گے جو اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا ملک کسی بڑے معاشی بحران کی طرف بڑھ رہا ہے یا صورتحال قابو میں ہے۔