LIVE
Loading Breaking News...

غرب اردن سے فلسطینی عیسائیوں کی ہجرت اور اس کی وجوہات

News Image
مقبوضہ غرب اردن میں جاری اقتصادی اور سیاسی مشکلات کی وجہ سے فلسطینی عیسائی اپنے آبائی علاقوں کو چھوڑ کر بیرون ملک ہجرت کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ تاریخی برادری کا یہ انخلاء خطے میں ثقافتی اور مذہبی تنوع کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔
مقبوضہ غرب اردن میں جاری شدید معاشی دباؤ، سیاسی غیر یقینی صورتحال اور نقل و حرکت کی پابندیوں نے وہاں کی تاریخی اقلیت یعنی فلسطینی عیسائیوں کو اپنے آبائی وطن سے ہجرت کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ خطے کے بگڑتے ہوئے حالات کی وجہ سے صدیوں پرانی عیسائی برادری کے لیے اپنے گھروں میں زندگی گزارنا روز بروز مشکل تر ہوتا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے خاندان نقل مکانی کا تلخ فیصلہ کر رہے ہیں۔ غرب اردن میں روزگار کے مواقع کی کمی، سیاحت کا زوال اور سخت سیکورٹی چیک پوسٹس کی وجہ سے عام شہریوں کی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ عیسائی آبادی، جو پہلے ہی اقلیت میں ہے، ان تمام چیلنجز سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہے۔ چرچ کے رہنماؤں اور سماجی کارکنوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو آنے والے برسوں میں بیت اللحم اور دیگر مقدس مقامات سے عیسائی آبادی کا نام و نشان مٹ سکتا ہے، جو خطے کے بھرپور ثقافتی اور مذہبی ورثے کے لیے ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔ بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کر رہی ہیں، تاہم زمینی حقائق میں کوئی خاص بہتری دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔ جب تک غرب اردن میں پائیدار امن، معاشی استحکام اور شہریوں کو بنیادی آزادیپسند حقوق کی فراہمی یقینی نہیں بنائی جاتی، تب تک اس خطے سے ہجرت کا یہ سلسلہ جاری رہنے کا خدشہ ہے۔