World
روس کا یوکرین پر بڑا حملہ اور گائیڈڈ بموں کا استعمال
یوکرین کی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کے مطابق روسی فوج کو جولائی کے دوران بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ روسی افواج کی جانب سے یوکرین پر گائیڈڈ بموں کی بارش کا سلسلہ بھی جاری ہے جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔
یوکرین کی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کی جانب سے جاری کردہ حالیہ اطلاعات کے مطابق، جولائی کے مہینے میں روسی فوج کو اب تک کے سب سے زیادہ جانی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یوکرینی حکام کا دعویٰ ہے کہ صرف ایک ماہ کے دوران روسی فوج کے تقریباً بیالیس ہزار آٹھ سو اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے، جو رواں سال کے دوران کسی بھی مہینے میں ہونے والا سب سے بڑا ماہانہ نقصان ہے۔ اس صورتحال نے جنگ کی شدت کو مزید نمایاں کر دیا ہے جہاں دونوں جانب سے شدید ترین حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ دوسری جانب، جنگ کے میدان میں روس کی جانب سے فضائی برتری حاصل کرنے کے لیے گائیڈڈ بموں کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق روسی فوج نے یوکرینی دفاعی لائنوں اور شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کے لیے ریکارڈ تعداد میں گلائیڈ بم گرائے ہیں۔ یہ گائیڈڈ بم انتہائی تباہ کن ثابت ہو رہے ہیں کیونکہ یہ روایتی توپ خانے کے مقابلے میں زیادہ دور سے اور زیادہ درستگی کے ساتھ اہداف کو نشانہ بناتے ہیں۔ یوکرین کے فوجی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان طاقتور بموں کا مقابلہ کرنے کے لیے یوکرین کو فوری طور پر جدید فضائی دفاعی نظام اور اضافی عسکری سازوسامان کی اشد ضرورت ہے۔ بین الاقوامی سطح پر اس تنازع کے حوالے سے تشویش میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اتحادی ممالک کی جانب سے یوکرین کو عسکری امداد کی فراہمی جاری ہے لیکن اس کے باوجود میدانِ جنگ میں روسی افواج کے دباؤ میں کمی نہیں آ رہی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر فریقین کی جانب سے سفارتی سطح پر مذاکرات کا آغاز نہ کیا گیا تو آنے والے دنوں میں جانی و مالی نقصان میں مزید خطرناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے، جو نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کی معیشت اور سلامتی کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔