Technology
مٹی لیبز نے چاول کے کھیتوں کی بہتری کے لیے 9.5 ملین ڈالر حاصل کر لیے
ڈیپ ٹیک کمپنی مٹی لیبز نے ایشیا کے چاول کے کھیتوں میں موسمیاتی لچک پیدا کرنے اور کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے لیے سیریز اے فنڈنگ کے دوران 9.5 ملین ڈالر حاصل کیے ہیں۔ اس سرمایہ کاری کی قیادت آرامکو وینچرز نے کی ہے جبکہ دیگر نامور ادارے بھی اس میں شامل ہیں۔
ڈیپ ٹیک کے شعبے میں سرگرم نمایاں کمپنی مٹی لیبز (Mitti Labs) نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ اس نے ایشیا کے چاول کے کھیتوں میں موسمیاتی لچک پیدا کرنے کے عزم کے تحت 9.5 ملین ڈالر کی سیریز اے فنڈنگ کامیابی سے حاصل کر لی ہے۔ اس اہم فنڈنگ راؤنڈ کی قیادت معروف عالمی ادارے آرامکو وینچرز (Aramco Ventures) نے کی، جبکہ اس میں لائٹ اسپیڈ انڈیا، گودریج انڈسٹریز گروپ اور سسکو فاؤنڈیشن جیسے بڑے سرمایہ کار بھی شامل ہیں۔ اس سرمایہ کاری کا بنیادی مقصد خطے میں روایتی زراعت کے طریقوں کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنا اور ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنا ہے۔
حاصل ہونے والے اس نئے سرمائے کو کمپنی کے تکنیکی ڈھانچے کو وسعت دینے اور کسانوں کے لیے جدید ڈیجیٹل حل فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ ایشیا میں چاول کی کاشت عالمی سطح پر خوراک کی فراہمی کا ایک اہم حصہ ہے، لیکن یہ طریقہ کار گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج اور پانی کے زیادہ استعمال کی وجہ سے ماحولیاتی تنقید کی زد میں بھی رہتا ہے۔ مٹی لیبز اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے کوشاں ہے تاکہ کسانوں کو زمین کی زرخیزی برقرار رکھتے ہوئے زیادہ پیداوار حاصل کرنے میں مدد دی جا سکے اور اس دوران ماحول کو نقصان کم سے کم ہو۔
کمپنی کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور سائنسی طریقوں کو اپنا کر چاول کے کھیتوں سے پیدا ہونے والے میتھین اور دیگر نقصان دہ گیسوں کے اخراج کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔ یہ سرمایہ کاری نہ صرف مٹی لیبز کے لیے ایک بڑا سنگ میل ہے بلکہ یہ ایشیائی زراعت کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے بھی ایک اہم قدم ثابت ہوگی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کے اقدامات سے کسانوں کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوگا اور وہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا بہتر طریقے سے مقابلہ کر سکیں گے۔