Business
امریکی معیشت کو دھچکا، ایران جنگ کے اثرات سے ہزاروں ملازمتیں ختم
امریکہ میں ماہانہ بنیاد پر آجروں نے غیر متوقع طور پر تئیس ہزار ملازمتیں ختم کر دی ہیں جس کی بڑی وجہ ایران جنگ کا معاشی دباؤ ہے۔ اگرچہ مجموعی بے روزگاری کی شرح میں معمولی کمی دیکھی گئی ہے لیکن لیبر ڈیپارٹمنٹ کی نظرثانی شدہ رپورٹس نے معاشی ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
واشنگٹن (اے پی) امریکہ میں آجروں نے گزشتہ ماہ غیر متوقع طور پر تئیس ہزار ملازمتیں ختم کر دی ہیں، جبکہ لیبر ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار میں مئی اور جون کے مہینوں کے دوران ایک لاکھ تین ہزار ملازمتیں بھی کم ظاہر کی گئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس معاشی سست روی کی ایک بڑی وجہ ایران کے ساتھ جاری تنازعہ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عالمی معاشی دباؤ ہے جس نے کاروباری اداروں کو اپنے اخراجات میں کمی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
امریکہ کی وزارتِ محنت کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، ملازمتوں میں اس غیر متوقع کمی کے باوجود ملک میں بے روزگاری کی شرح میں معمولی کمی واقع ہوئی ہے جو کہ کم ہو کر 4.1 فیصد پر آ گئی ہے۔ تاہم، اس تضاد نے معاشی تجزیہ کاروں کو سوچ میں ڈال دیا ہے کیونکہ ایک طرف جہاں نئے روزگار کے مواقع محدود ہو رہے ہیں، وہیں دوسری طرف افرادی قوت کی طلب اور رسد کے توازن میں بھی نمایاں تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور بین الاقوامی سپلائی چین میں رکاوٹوں نے امریکی کاروباری طبقے کو شدید دباؤ میں ڈال رکھا ہے۔ اس صورتحال میں کمپنیاں اپنے مالیاتی خطرات کو کم کرنے کے لیے نئی بھرتیوں سے گریز کر رہی ہیں اور بیشتر اداروں نے اپنے موجودہ عملے میں بھی کٹان شروع کر دی ہے جس کے آنے والے مہینوں میں مزید منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
فیڈرل ریزرو اور دیگر مالیاتی ادارے اس صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ آیا یہ معاشی سست روی عارضی ہے یا کسی بڑے کساد بازاری کا پیش خیمہ ہے۔ اگر ایران جنگ کے اثرات مزید ط طول پکڑتے ہیں تو عالمی منڈیوں کے ساتھ ساتھ امریکی لیبر مارکیٹ کو بھی مزید شدید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس سے مہنگائی اور شرح سود کی پالیسیوں پر بھی براہ راست اثر پڑے گا۔