LIVE
Loading Breaking News...

روسی ہیکرز کی نئی چال: بغیر کلک کیے ای میلز چوری

News Image
امریکی سائبر سیکیورٹی حکام کے مطابق ایک نئی روسی ہیکنگ مہم کے ذریعے ای میلز کو بغیر کسی لنک پر کلک کیے چوری کیا جا رہا ہے۔ یہ حالیہ انکشاف روایتی حفاظتی تدابیر پر بڑا سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔
روایتی طور پر ہمیں یہی سکھایا جاتا ہے کہ اگر کسی نامعلوم یا مشکوک ای میل کے لنکس اور اٹیچمنٹس کو نہ کھولا جائے تو ہم سائبر حملوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ تاہم، حال ہی میں سامنے آنے والی ایک رپورٹ نے اس تمام روایتی حفاظتی حکمت عملی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایک روسی ہیکنگ مہم نے اس تصور کو یکسر بدل دیا ہے کہ ای میلز صرف اسی وقت خطرہ بنتی ہیں جب ان کے اندر موجود کسی مواد پر کلک کیا جائے۔ امریکی سائبر سیکیورٹی اینڈ انفراسٹرکچر سیکیورٹی ایجنسی (CISA) نے اس خطرناک صورتحال پر روشنی ڈالی ہے اور تمام متعلقہ اداروں کو خبردار کیا ہے۔ ہیکرز اب اس نوعیت کی تکنیکیں استعمال کر رہے ہیں جن کے لیے صارف کی جانب سے کسی قسم کے عمل یا کلک کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ صرف ای میل موصول ہونے یا پس منظر میں چلنے والے خودکار طریقوں کے ذریعے اہداف تک رسائی حاصل کی جا رہی ہے، جو دنیا بھر میں ڈیجیٹل سیکیورٹی کے ماہرین کے لیے شدید تشویش کا باعث بن گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حملے عام صارفین کے ساتھ ساتھ اہم سرکاری اور کارپوریٹ شخصیات کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔ جب تک روایتی سیکیورٹی سسٹمز اس نئے خطرے کی مکمل شناخت نہیں کر لیتے، اس وقت تک اداروں کو اپنے دفاعی انتظامات مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے۔ تکنیکی ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ای میل سیکیورٹی کے لیے اب فائر والز اور انکرپشن کے روایتی طریقوں کے علاوہ جدید ترین حفاظتی پروٹوکولز اپنانا ناگزیر ہو چکا ہے تاکہ بغیر کلک کے ہونے والی اس چوری کو روکا جا سکے۔