Entertainment
ون سیکنڈ افٹر: ایکشن تھرلر فلم اور بلیک آؤٹ کی کہانی
مستقبل کے اس نئے ایکشن تھرلر میں دنیا بھر میں بجلی اور انٹرنیٹ کے مکمل خاتمے کے بعد پیدا ہونے والے سنگین بحران کو دکھایا گیا ہے۔ اس سنسنی خیز کہانی میں انسانی بقا اور جدید ٹیکنالوجی کی تباہ کاریوں کے اہم پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے۔
جدید دور میں ٹیکنالوجی پر ہماری انحصار پسندی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ ہم سمارٹ ریفریجریٹرز سے لے کر روزمرہ کی ہر چھوٹی بڑی ضرورت کے لیے انٹرنیٹ اور بجلی کے محتاج ہو چکے ہیں۔ ایسے میں اگر ایک لمحے کے لیے دنیا بھر کی بجلی اور ڈیجیٹل مواصلات ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں تو کیا ہوگا؟ یہی سوال اس نئی فلم 'ون سیکنڈ افٹر' کا مرکزی موضوع ہے، جسے حالیہ دنوں میں ایکشن اور سنسنی سے بھرپور تھرلر کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
اس فلم کی کہانی ایک ایسے خوفناک منظر نامے کے گرد گھومتی ہے جہاں ایک ہی سیکنڈ میں تمام سمارٹ ڈیوائسز، موبائل فونز اور بجلی کے ترسیلی نظام مکمل طور پر مفلوج ہوجاتے ہیں۔ اس مستقل بلیک آؤٹ کے بعد معاشرے میں پیدا ہونے والی افراتفری، وسائل کی جنگ اور انسانی جبلت کے تاریک پہلوؤں کو بڑی مہارت سے فلمایا گیا ہے۔ ہدایت کاروں نے اس بات کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے کہ کس طرح ڈیجیٹل کٹا ہوا انسان دوبارہ پتھر کے دور کی سی مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔
فلم کے مبصرین کے مطابق، یہ پروجیکٹ محض ایک روایتی ایکشن مووی نہیں ہے بلکہ یہ جدید تہذیب کی کمزوریوں پر ایک گہرا طنز بھی ہے۔ ناظرین کو اس کہانی میں زبردست سسپنس، دل کو چھولینے والے مناظر اور بقا کی جنگ لڑتے ہوئے کردار دیکھنے کو ملیں گے۔ فلمی نقادوں نے اس کے سکرپٹ اور ڈائریکشن کو بے حد سراہا ہے اور اسے موجودہ دور کی سب سے فکر انگیز تفریحی پیشکش قرار دیا ہے۔