World
بھارت روس صنعتی تعاون: وندے بھارت اور طیارہ سازی پر اہم مذاکرات
بھارت اور روس نے صنعتی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ریلوے اور ہوا بازی کے شعبوں میں نئی شراکت داری پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اس ملاقات کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان صنعتی تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچانا ہے۔
نئی دہلی اور ماسکو نے دوطرفہ صنعتی تعاون کو مزید فروغ دینے اور اسے نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے ایک اہم ملاقات کا انعقاد کیا۔ اس اعلیٰ سطحی بات چیت کے دوران دونوں ممالک کے درمیان ریلوے کے بنیادی ڈھانچے اور جدید ٹیکنالوجی کے تبادلے پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی۔ دونوں ممالک کے حکام نے ہندوستان کے महत्वाकांक्षी وندے بھارت ٹرین پروجیکٹ میں تعاون کے امکانات کا باریک بینی سے جائزہ لیا، جو کہ دونوں معیشتوں کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔
ریلوے کے علاوہ، مذاکرات میں طیارہ سازی کی صنعت اور بغیر پائلٹ کے فضائی نظام یعنی یو اے وی (UAVs) کے شعبے میں مشترکہ اقدامات پر بھی کھل کر بات چیت کی گئی۔ روس اور بھارت روایتی طور پر دفاعی اور تجارتی شعبوں میں قریبی شراکت دار رہے ہیں، اور حالیہ بات چیت کا مقصد اسی تعاون کو جدید صنعتی خطوط پر استوار کرنا ہے۔ حکام کا ماننا ہے کہ ایس جے 100 طیاروں کی تیاری اور دیگر ہوا بازی کے منصوبوں میں اشتراک سے دونوں ملکوں کی تکنیکی صلاحیتوں میں مزید اضافہ ہوگا۔
اس بیٹھک میں دونوں اطراف سے اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ عالمی سپلائی چین کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باہمی تجارت اور صنعتی اشتراک کو وسعت دی جائے۔ اس شراکت داری کے ذریعے نہ صرف جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی میں مدد ملے گی بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت اور روس کے درمیان یہ بڑھتی ہوئی ہم آہنگی خطے میں اقتصادی اور صنعتی استحکام کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔