AI
انڈونیشیا میں اے آئی فیکٹری: علاقائی ڈیجیٹل ہب کی جانب اہم قدم
انڈونیشیا کے وزیر مواصلات کا کہنا ہے کہ انڈوسات اور عالمی ٹیک شراکت داروں کے تعاون سے بننے والی اے آئی فیکٹری ملک کی ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دے گی۔ یہ منصوبہ ملک کو خطے میں مصنوعی ذہانت کا ایک اہم ترین مرکز بنانے میں مدد فراہم کرے گا۔
جکارتا (انٹارا) - انڈونیشیا کے وزیر مواصلات نے جمعہ کے روز اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ملک میں قائم کی جانے والی نئی مصنوعی ذہانت (اے آئی) فیکٹری انڈونیشیا کی حیثیت کو بطور علاقائی اے آئی ہب مزید مستحکم کرے گی۔ یہ اہم منصوبہ انڈوسات (Indosat) اور دنیا کے صف اول کے عالمی ٹیکنالوجی شراکت داروں کے مشترکہ تعاون سے آگے بڑھایا جا رہا ہے، جو ملک کے تکنیکی ڈھانچے میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ حکارتی حلقوں کے مطابق اس اقدام سے ملک میں جدید ترین ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے نفاذ میں تیزی آئے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس مصنوعی ذہانت کی فیکٹری کے قیام سے نہ صرف انڈونیشیا کے مقامی ٹیکنالوجی سیکٹر کو فروغ ملے گا بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ملک کی پوزیشن بہتر ہوگی۔ آج کے دور میں جب دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کو معاشی ترقی کی اساس سمجھا جا رہا ہے، انڈونیشیا کا یہ قدم خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی ایک مثال بن سکتا ہے۔ اس منصوبے کے تحت مقامی نوجوانوں کو جدید ترین اے آئی آلات اور تربیت تک رسائی فراہم کی جائے گی، جس سے ہنر مند افرادی قوت کی تیاری میں مدد ملے گی۔
اس منصوبے کے مالی اور تکنیکی پہلوؤں پر بھی تیزی سے کام جاری ہے۔ عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اس میں شمولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ بین الاقوامی سرمایہ کار انڈونیشیا کے ڈیجیٹل مستقبل پر مکمل اعتماد رکھتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کے اقدامات ملک میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ طویل مدت میں پائیدار معاشی ترقی کو بھی یقینی بنائیں گے۔ انڈونیشیا کی حکومت ملک کو ایک جدید ڈیجیٹل معیشت میں تبدیل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔