World
کیسپیئن سمندر میں جہاز پر حملہ، ایران کا یوکرین کو سخت پیغام
ایران نے کیسپیئن سمندر میں ایک بحری جہاز پر ہونے والے یوکرینی حملے کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ تہران کی جانب سے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور اسے خطے کے امن کے لیے نقصان دہ قرار دیا گیا ہے۔
تہران: ایران نے کیسپیئن سمندر کے خطے میں ایک بحری جہاز پر مبینہ یوکرینی حملے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے مکمل طور پر غیر قانونی اور قابل مذمت قرار دیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حملے نہ صرف بحری سلامتی کے بین الاقوامی اصولوں کے منافی ہیں بلکہ اس سے پورے خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ بھی پیدا ہوتا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ اور دیگر متعلقہ اداروں کی طرف سے جاری کردہ بیانات میں واضح کیا گیا ہے کہ کیسپیئن سمندر ایک پرامن خطہ ہے اور اس طرح کی عسکری کارروائیاں خطے کے استحکام کے لیے شدید خطرہ بن سکتی ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں جغرافیائی سیاسی تناؤ پہلے ہی اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے اور اس نوعیت کے واقعات سے بین الاقوامی تجارت اور سمندری نقل و حرکت پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام فریقین بین الاقوامی قوانین کا احترام کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ تہران اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے تمام ضروری سفارتی اور دفاعی اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔