World
ایرانی صدر پزشکیان کا بیان: دباؤ کا مقابلہ اور دفاعی صلاحیتوں کا دفاع
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے تاتید کی ہے کہ ایران بیرونی دباؤ کے سامنے ہرگز ہتھیار نہیں ڈالے گا اور اپنے دفاعی و فوجی پروگراموں کا ہر قیمت پر دفاع کرے گا۔ انہوں نے خطے میں امریکہ پر خلیجی ممالک کے درمیان تفریق پیدا کرنے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے ایک تازہ بیان میں واضح کیا ہے کہ ایران بیرونی دباؤ کے سامنے ہرگز سر نہیں جھکائے گا اور اپنے عسکری و دفاعی اثاثوں کا بھرپور دفاع جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ تہران مذاکرات کے لیے تو تیار ہے لیکن اپنی قومی سلامتی اور دفاعی صلاحیتوں پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ایرانی صدر کے مطابق بین الاقوامی پابندیوں کے باوجود ملک کی دفاعی ترقی اور خودمختاری کو اولین ترجیح حاصل ہے۔
مسعود پزشکیان نے اس موقع پر امریکہ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ واشنگٹن خطے کے ممالک خصوصاً خلیجی ریاستوں کے درمیان خلیج اور بداعتمادی پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مسلم دنیا کے ممالک کو بیرونی سازشوں کو سمجھنا چاہیے اور باہمی تعاون کو فروغ دینا چاہیے تاکہ خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔ ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ایران خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ تجارت کو وسعت دے رہا ہے تاکہ مغربی پابندیوں کے اثرات کو زائل کیا جا سکے اور معاشی استحکام حاصل کیا جا سکے۔
مزید برآں، ایرانی صدر نے ان ناقدین کو بھی آڑے ہاتھوں لیا جو امریکہ کے ساتھ طے پانے والے بعض امور اور یادداشتوں پر تنقید کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے عناصر جانے انجانے میں اسرائیل کے بیانیے کو تقویت دے رہے ہیں جو خطے میں کشیدگی برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ ایران اپنے اتحادیوں اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ سفارتی و معاشی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے اور کسی بھی جارحانہ دباؤ کے سامنے کمزوری نہیں دکھائی جائے گی۔
اس عزم کا اظہار ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ایران کو خطے کی بدلتی ہوئی جیو پولیٹیکل صورتحال اور بین الاقوامی دباؤ کا سامنا ہے۔ ماہرین کے مطابق تہران کی جانب سے یہ واضح پیغام دیا گیا ہے کہ دفاعی خودمختاری اور علاقائی تجارت کا فروغ ایران کی بنیادی پالیسی ہے جس میں کوئی لچک دکھائی نہیں جائے گی۔