World
پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کا دفاعی معاہدہ اور اسرائیلی ردعمل
اسرائیلی انتخابات قریب آتے ہی وزیر اعظم بنجمن نیتن ہیاهو کی جانب سے سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے دفاعی معاہدے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم (OIC) نے اس تاریخی سہ فریقی اتحاد کو ایک اہم تزویراتی قدم قرار دیتے ہوئے اس کا خیرمقدم کیا ہے۔
اسرائیلی انتخابات کی آمد کے ساتھ ہی خطے میں سیاسی اور عسکری ہلچل میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق، اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن ہیاهو مبینہ طور پر سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے ایک اہم دفاعی معاہدے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ یہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے بالخصوص مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ کشیدگی اور جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں، جس نے مسلم دنیا کے بڑے عسکری اور معاشی ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق سعودی عرب نے خطے میں امن اور دفاعی خود کفالت کے لیے مسلم دنیا کے عسکری لحاظ سے طاقتور ممالک کے ساتھ اشتراک عمل کو بڑھایا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے مابین دستخط ہونے والا دفاعی معاہدہ عالمی سطح پر خاصی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ تجزیہ کار اس معاہدے کو نیٹو طرز کا ایک عسکری اتحاد قرار دے رہے ہیں جو مستقبل میں خطے کے سٹریٹجک منظر نامے کو مکمل طور پر تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
دوسری جانب، اسلامی تعاون تنظیم (OIC) نے پاک-سعودی-ترکی کے اس مشترکہ دفاعی معاہدے کا پرجوش خیرمقدم کیا ہے۔ او آئی سی کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام مسلم امہ کے دفاعی استحکام اور باہمی تعاون کے فروغ کے لیے ایک انتہائی اہم اور تاریخی قدم ہے۔ اس اتحاد سے نہ صرف تینوں ممالک کی عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا بلکہ خطے میں طاقت کا توازن بھی برقرار رہنے میں مدد ملے گی، جس پر عالمی طاقتیں بھی اپنی نگاہیں مرکوز کیے ہوئے ہیں۔