LIVE
Loading Breaking News...

فیفا کے صدر گیانی انفنٹینو کا یوئیفا فنڈز سے متعلق الزامات پر ردعمل

News Image
فیفا کے صدر گیانی انفنٹینو نے ان تمام الزامات کی سختی سے تردید کی ہے جن میں یہ کہا گیا تھا کہ یوئیفا نے ان کی مبینہ خاتون دوست کو بھاری رقم ادا کی تھی۔ تاہم یوئیفا کا کہنا ہے کہ یہ ادائیگی ایک سابق خاتون ملازم کو اس وقت کی گئی تھی جب انفنٹینو وہاں جنرل سیکرٹری کے طور پر کام کر رہے تھے۔
عالمی فٹ بال کی تنظیم فیفا کے صدر گیانی انفنٹینو نے حال ہی میں سامنے آنے والے ان الزامات کی پرزور تردید کی ہے جن میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ یورپی فٹ بال گورننگ باڈی (یوئیفا) نے ان کی مبینہ خاتون دوست یا ملازم کو کوئی غیر قانونی یا خفیہ ادائیگی کی تھی۔ یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب میڈیا میں یہ خبریں زیر گردش آئیں کہ یوئیفا کے فنڈز سے مبینہ طور پر ایک قریبی خاتون ملازم کو مالی فائدہ پہنچایا گیا ہے۔ اس حوالے سے فٹ بال کے حلقوں میں چہ مگوئیاں تیز ہو گئی تھیں جس پر فیفا صدر کو خود سامنے آ کر وضاحت دینا پڑی۔ دوسری جانب، یوئیفا کے حکام نے معاملے پر وضاحت پیش کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ ایک خاتون ملازم کو مالی ادائیگی کی گئی تھی جسے انہوں نے 'ڈپارچر پیمنٹ' یا ملازمت کے خاتمے پر ملنے والا واجب الادا معاوضہ قرار دیا ہے۔ یوئیفا کا کہنا ہے کہ یہ فنڈز اس وقت جاری کیے گئے تھے جب گیانی انفنٹینو خود یوئیفا کے جنرل سیکرٹری کے منصب پر فائز تھے۔ تنظیم کے مطابق یہ ادائیگی کسی ذاتی تعلق کی بنیاد پر نہیں بلکہ معمول کے پیشہ ورانہ معاہدے اور قوانین کے تحت کی گئی تھی تاکہ قانونی تقاضے پورے کیے جا سکیں۔ گیانی انفنٹینو کے ترجمان اور قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان پر لگائے جانے والے تمام الزامات بے بنیاد، سیاسی طور پر محرک اور ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی ایک سازش ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کے دورِ وزارت اور جنرل سیکرٹری کے دوران تمام مالی معاملات شفافیت کے ساتھ طے پائے تھے اور کسی بھی ضابطے کی خلاف ورزی نہیں کی گئی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس قسم کے بے بنیاد الزامات سے فیفا اور یوئیفا کے انتظامی امور پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا اور حقائق جلد سب کے سامنے آ جائیں گے۔ فٹ بال کے شائقین اور اسپورٹس کے مبصرین اس پورے معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ فیفا اور یوئیفا جیسی بڑی عالمی تنظیموں میں مالی شفافیت کا معاملہ ہمیشہ سے انتہائی حساس رہا ہے۔ اگرچہ یوئیفا نے اس ادائیگی کو باقاعدہ اور قانونی کارروائی قرار دیا ہے، تاہم اس تنازع نے ایک بار پھر کھیلوں کی دنیا میں انتظامی امور اور احتساب کے حوالے سے بحث کو چھیڑ دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید تحقیقات یا بیانات سامنے آنے کا امکان ہے۔