LIVE
Loading Breaking News...

بھارت میں کاکروچ احتجاجی تحریک اور مودی حکومت پر دباؤ

News Image
بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں شروع ہونے والی ’کاکروچ‘ احتجاجی تحریک نے نریندر مودی حکومت کو شدید سیاسی چیلنج سے دوچار کر دیا ہے۔ امتحانات میں بدانتظامی کے خلاف اٹھنے والی یہ آواز اب بے روزگاری اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف ایک وسیع تحریک بن چکی ہے۔
بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں پھوٹ پڑنے والی احتجاجی تحریک نے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کو گزشتہ کئی برسوں کے دوران سب سے بڑے سیاسی چیلنج سے دوچار کر دیا ہے۔ تعلیمی وزیر کے استعفیٰ کے دو ہفتے بعد بھی حکومت اس تحریک کے سیاسی اثرات سے نبردآزما ہے۔ آن لائن متحرک ہونے والی ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) کی قیادت میں یہ مظاہرے نئی دہلی سے لے کر ملک کے دیگر شہروں تک پھیل گئے، جو امتحانات میں بے قاعدگیوں کے خلاف غصے سے شروع ہو کر بے روزگاری، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع اور حکومت کی مبینہ آمرانہ پالیسیوں کے خلاف ایک بڑی تحریک میں تبدیل ہو گئے۔ امتحانات کے پرچے لیک ہونے کے معاملے نے چنگاری کا کام کیا، لیکن نوجوانوں کی گہری مایوسی نے اس احتجاج کو مزید وسعت دی جو معاشی سلامتی اور اداروں پر اعتماد کے فقدان سے جڑی ہے۔ مبصرین کے مطابق اگرچہ حکومت نے امتحانات میں نقل روکنے کے لیے قوانین سخت کر دیے ہیں اور جرمانے بڑھا دیے ہیں، لیکن وہ ان وسیع تر معاشی خدشات کو آسانی سے حل نہیں کر سکتی جنہوں نے نوجوانوں کو سڑکوں پر لا کھڑا کیا۔ اس احتجاج کے دوران مصنوعی ذہانت پر مبنی کیمروں کے ذریعے مظاہرین کی نگرانی اور انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن جیسے ہتھکنڈوں کا بھی انکشاف ہوا، جس نے حکومت کی پالیسیوں پر مزید سوالات اٹھائے ہیں۔ اس تحریک کے نتیجے میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لاکھوں فالوورز کے ساتھ ایک نئی نوجوان قیادت ابھری ہے، اگرچہ یہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ اس کا دیرپا سیاسی اثر ہوگا۔ سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے کا کہنا ہے کہ وہ فی الحال کسی سیاسی جماعت کی بجائے ایک پریشر گروپ کے طور پر کام کریں گے اور نوجوانوں کے مسائل سننے کے لیے ملک گیر دورے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ دوسری طرف بھارتی حکمران جماعت اور اپوزیشن دونوں کی یہ کوشش ہوگی کہ وہ نوجوانوں کے اس طبقے اور ان کے مطالبات کو آئندہ کے انتخابی فوائد کے لیے استعمال کریں۔