Pakistan
پاکستان میں ناقص تفتیش اور فرانزک نظام کے مسائل
کراچی کے ایک نوجوان کاروباری شخصیت کی پراسرار موت کے تناظر میں ملک کے طبی قانونی اور تفتیشی نظام کی خامیوں کو اجاگر کیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ناقص پوسٹ مارٹم رپورٹس اور فرانزک کی کمزوریاں انصاف کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔
کراچی کے نوجوان کاروباری شخصیت میر رضا علی کی مشکوک حالات میں موت کا معاملہ ایک بار پھر ملک کے ناقص تفتیشی اور طبی قانونی (میڈیکو لیگل) نظام کی سنگین خامیوں کو سامنے لے آیا ہے۔ ابتدائی طور پر پولیس اس معاملے کو خودکشی قرار دینے کی کوشش کر رہی تھی جبکہ والدین نے اغوا، تشدد اور قتل کے سنگین الزامات عائد کیے۔ اس کیس نے ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کیا ہے کہ ملک میں پوسٹ مارٹم اور میڈیکو لیگل رپورٹس پر متواتر سوالات اٹھتے رہے ہیں، جن کی بنیاد پر کسی بھی مجرم کو سزا یا کسی بے گناہ کو رہائی ملتی ہے۔ میڈیکو لیگل سرجنز کی رپورٹس پر تنازعات اور شواہد میں ہیر پھر کے الزامات انصاف کے حصول کو مشکل بنا دیتے ہیں۔
پاکستان میں فرانزک اور میڈیکو لیگل کے شعبے کو درپیش چیلنجز بہت گہرے ہیں۔ اکثر فرانزک ماہرین اس نوعیت کے حساس کام کے لیے درکار بنیادی تعلیمی معیار پر پورا نہیں اترتے، جس کی وجہ سے وہ جائے وقوعہ کو درست طریقے سے دوبارہ تشکیل دینے اور مجرموں یا متاثرین کی جسمانی خصوصیات کا درست تخمینہ لگانے میں ناکام رہتے ہیں۔ زخمیوں کے ریکارڈ میں غلطیاں اور شواہد اکٹھا کرنے کے فرسودہ طریقوں کی وجہ سے عدالتی کارروائی متاثر ہوتی ہے اور اصل مجرم قانون کی گرفت سے بچ نکلتے ہیں۔ اس صورتحال کو سدھارنے کے لیے تمام صوبوں میں منظم ڈیٹا بینک قائم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ شواہد کی بروقت جانچ پڑتال ممکن ہو سکے۔
اس نظام کی بہتری کے لیے پولیس اہلکاروں اور تفتیش کاروں کو خصوصی تعلیم اور جدید تربیت فراہم کرنا ناگزیر ہے۔ ملک کے تمام بڑے اسپتالوں میں جدید سہولتوں سے آراستہ فرانزک یونٹس کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ طبی ماہرین طویل عرصے سے جدید تصدیقی طریقوں، اپ گریডেڈ آلات اور بہتر تکنیک کے حامل میڈیکو لیگل نظام کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ پوسٹ مارٹم رپورٹس اور میڈیکو لیگل سرٹیفکیٹس ہی کسی بھی مقدمے کی تفتیش اور استغاثہ کی سمت کا تعین کرتے ہیں، اس لیے ان میں کسی قسم کی کوتاہی گناہوں پر پردہ ڈالنے کے مترادف ہے۔
حکومت اور متعلقہ اداروں کو اس نظامی خرابی کا بخوبی علم ہے لیکن اس کے باوجود عملی اقدامات کا فقدان ہے۔ انصاف کے کٹہرے میں سچائی کو لانے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کرنے کے لیے سیاسی عزم کا ہونا ازبس ضروری ہے۔ جب تک فرانزک اور تفتیشی نظام کو جدید خطوط پر استوار نہیں کیا جاتا، اس وقت تک کمزوروں کو انصاف کی فراہمی ایک خواب ہی رہے گی۔