Business
امریکہ کی جابز رپورٹ کے بعد عالمی مارکیٹس اور بانڈز میں تیزی
امریکہ میں توقعات سے کمزور جابز رپورٹ سامنے آنے کے بعد عالمی حصص بازاروں اور بانڈز میں نمایاں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ اس پیش رفت سے سرمایہ کاروں میں یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ فیڈرل ریزرو شرح سود میں اضافے سے گریز کرے گا۔
امریکہ میں ملازمتوں کے توقعات سے کمزور اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد جمعہ کے روز عالمی اسٹاک مارکیٹس اور بانڈز میں زبردست تیزی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس صورتحال نے سرمایہ کاروں کو بڑی حد تک پرسکون کر دیا ہے کیونکہ اس سے فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں فوری اور سخت اضافے کے خدشات کم ہو گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق مئی کے بعد سے یہ عالمی حصص بازاروں کے لیے سب سے بہترین ہفتہ وار کارکردگی ثابت ہو رہی ہے۔
امریکہ میں روزگار کے نئے مواقع توقع سے کم رہے جس کے بعد بانڈ مارکیٹ میں منافع کی شرح میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ بانڈز کی پیداوار گرنے سے سرمایہ کاروں کا رجحان دوبارہ رسک والے اثاثوں بالخصوص اسٹاکس کی طرف بڑھ گیا ہے۔ اس معاشی اشاریے نے مارکیٹ کے ان خدشات کو دور کر دیا ہے کہ امریکی معیشت بہت زیادہ گرم ہو رہی ہے اور مرکزی بینک کو جارحانہ اقدامات اٹھانا ہوں گے۔
دوسری جانب کرنسی مارکیٹ میں جاپانی ین نے بھی زبردست واپسی کی ہے اور امریکی ڈالر کے مقابلے میں اپنی قدر کو بہتر بنایا ہے۔ حالیہ دنوں میں کرنسی مارکیٹس میں کافی ہلچل دیکھنے میں آئی تھی لیکن جاپانی ین کی اس بحالی نے سرمایہ کاروں کو کچھ راحت فراہم کی ہے۔ غیر یقینی معاشی حالات کے باوجود عالمی مارکیٹس کا یہ مثبت رجحان ظاہر کرتا ہے کہ سرمایہ کار اب بھی نرم مانیٹری پالیسی کی توقعات پر بھروسہ کر رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے ہفتوں میں فیڈرل ریزرو کے آئندہ اقدامات کا دارومدار مہنگائی اور آئندہ آنے والے معاشی اعداد و شمار پر ہوگا۔ اگر مہنگائی میں کمی کا تسلسل جاری رہتا ہے تو عالمی منڈیوں میں تیزی کے اس رجحان کو مزید استحکام مل سکتا ہے، تاہم کسی بھی غیر متوقع معاشی جھٹکے سے بچنے کے لیے سرمایہ کار تاحال محتاط حکمت عملی اپنائے ہوئے ہیں۔