LIVE
Loading Breaking News...

انفراریڈ شعاعیں دیکھنے والی منفرد عینک متعارف

News Image
بیجنگ انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے محققین نے ایک نئی کولائیڈل کوانٹم ڈاٹ پر مبنی عینک تیار کی ہے جو انسانی آنکھ کو انفراریڈ سپیکٹرم کو مکمل رنگوں میں دیکھنے کے قابل بناتی ہے۔ اس انقلابی ٹیکنالوجی سے عینک پہننے والے افراد ایسی شعاعیں دیکھ سکیں گے جو عام طور پر انسانی آنکھ کے لیے نادیدہ ہوتی ہیں۔
بیجنگ انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے سائنسدانوں نے ایک ایسا حیرت انگیز کارنامہ انجام دیا ہے جس نے حیاتیاتی ارتقاء کی حدود کو ایک نئے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ محققین نے ایک ایسی جدید عینک ایجاد کی ہے جو کولائیڈل کوانٹم ڈاٹ (CQD) پر مبنی انفرا ریڈ سے وزیبل اپ کنورٹر کا استعمال کرتی ہے۔ یہ جدید ترین ٹیکنالوجی انفراریڈ سپیکٹرم کو مکمل اور روشن رنگوں میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جس کی مدد سے عام انسان بھی انفراریڈ شعاعوں کو مرئی روشنی کے دائرے میں باآسانی دیکھ سکیں گے۔ اس سائنسی ایجاد کے بعد انسانی بینائی کی حدود میں ایک تاریخی اضافہ متوقع ہے۔ اب تک انسانی آنکھیں صرف ایک مخصوص روشنی کے دائرے میں ہی دیکھ سکتی تھیں جسے وزیبل اسپیکٹرم کہا جاتا ہے، جبکہ انفراریڈ اور دیگر نادیدہ شعاعیں عام آنکھ سے اوجھل رہتی تھیں۔ انہیں دیکھنے کے لیے مہنگے اور بھاری بھرکم تھرمل یا نائٹ ویژن کیمروں کی ضرورت پڑتی تھی۔ تاہم، اس نئی عینک کی تیاری کے بعد اب پورٹیبل اور ہلکے پھلکے انداز میں انفراریڈ مناظر کو رنگین شکل میں دیکھنا ممکن ہو جائے گا۔ یہ ایجاد نہ صرف عام صارفین کے لیے دلچسپی کا باعث بنے گی بلکہ سائنسی، صنعتی اور دفاعی شعبوں میں بھی اس کے وسیع پیمانے پر استعمال کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔ تحقیق کاروں کے مطابق، اس اپ کنورٹر ڈیوائس میں انتہائی باریک کوانٹم ڈاٹس استعمال کیے گئے ہیں جو نادیدہ انفراریڈ فوٹونز کو جذب کر کے انہیں وزیبل لائٹ یا مرئی روشنی کے فوٹونز میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ اس عمل کے دوران رنگوں کی درستگی اور چمک کا خاص خیال رکھا جاتا ہے تاکہ پہننے والے کو ایک واضح اور حقیقی رنگوں پر مبنی منظر دکھائی دے سکے۔ ماہرین اسے آپٹکس اور مٹیریل سائنس کی دنیا میں ایک سنگِ میل قرار دے رہے ہیں، جو مستقبل میں انسانی بصری صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے نئے دروازے کھولے گا۔ اس ایجاد کے عملی اطلاق سے آنے والے دنوں میں میڈیکل ڈائیگنوسٹکس، سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز، اور سیکورٹی کے نظام میں انقلابی تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔ سائنسدان اس ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنانے پر کام کر رہے ہیں تاکہ اس عینک کو وزن میں مزید ہلکا اور عام استعمال کے لیے زیادہ سے زیادہ آرام دہ بنایا جا سکے، جس سے یہ مارکیٹ میں عام صارفین کی دسترس میں بھی آسانی سے آ سکے۔