LIVE
Loading Breaking News...

جدید طبی مہارت اور ڈاکٹروں کی حیثیت کا تجزیہ

News Image
پرانے زمانے میں مقامی ڈاکٹر کو معاشرے کا ایک عام لیکن محترم فرد سمجھا جاتا تھا جو پڑوسی کی طرح رہتا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ طبی پیشے اور ڈاکٹروں کے بارے میں عوامی نقطہ نظر میں نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں۔
پرانے وقتوں کو یاد کرنے والے یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ ایک زمانے میں 'قصبے کا ڈاکٹر' انتہائی قابل احترام ہونے کے باوجود معاشرے میں کسی عام پڑوسی کی طرح ہی زندگی بسر کرتا تھا۔ اس دور میں معالجین کو اساتذہ، ڈاک بابو یا دیگر محنتی طبقے کے عام افراد کی طرح دیکھا جاتا تھا اور وہ خود کو بھی اسی معاشرے کا عام حصہ سمجھتے تھے۔ اس سادگی اور عاجزی نے طبی پیشے اور عوام کے درمیان ایک قریبی اور بھروسے مند رشتہ قائم کیا ہوا تھا جہاں مریض اپنے معالج کو اپنا خیرخواہ سمجھتا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں میڈیکل سائنس اور ہیلتھ کیئر کے نظام میں انقلابی تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں، جس کے نتیجے میں طبی مہارت اور ڈاکٹروں کے مرتبے کا تصور بھی یکسر بدل گیا ہے۔ آج کل کی جدید طبی دنیا میں ڈاکٹروں کو انتہائی بلند مقام حاصل ہے اور ان کی مہارت کو ایک خاص اور اعلیٰ درجے کی تکنیکی صلاحیت سمجھا جاتا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی، پیچیدہ آپریشنز اور مہنگے طبی آلات کی آمد نے میڈیکل فیلڈ کو عام زندگی سے کسی حد تک دور کر دیا ہے، جس سے اب ڈاکٹروں اور مریضوں کے درمیان وہ پرانی گہوارہ نما اپنایت کم ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ اس تبدیلی کے مثبت اور منفی دونوں پہلو ماہرینِ معاشیات اور صحت کے شعبے سے وابستہ افراد زیرِ بحث لاتے ہیں۔ جہاں ایک طرف جدید طبی مہارت کی وجہ سے پیچیدہ اور جان لیوا بیماریوں کا علاج ممکن ہو چکا ہے، وہیں دوسری طرف طبی پیشے کی یہ تجارتی اور اعلیٰ تکنیکی نوعیت عام آدمی کے لیے صحت کی سہولیات کو مشکل اور فاصلے پر لے آئی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جدید سائنسی ترقی کے فوائد حاصل کرتے ہوئے ڈاکٹروں اور مریضوں کے مابین اس پرانے باہمی احترام، سادگی اور انسانی ہمدردی کے رشتے کو بھی بحال رکھا جائے تاکہ صحت کا نظام ہر خاص و عام کے لیے زیادہ مؤثر اور قابلِ رسائی بن سکے۔