Education
یونیورسٹی آف مشی گن کا طلبہ کے لیے اہم تعلیمی فیصلہ
یونیورسٹی آف مشی گن نے طلبہ کی ذہنی صحت کے بحران پر قابو پانے کے لیے ایک انوکھا قدم اٹھایا ہے۔ اس فیصلے کے تحت نئے داخل ہونے والے طلبہ کے پہلے سمسٹر کی ٹرانسکرپٹ میں نمبرز کو ظاہر نہیں کیا جائے گا۔
یونیورسٹی آف مشی گن نے اپنے نئے آنے والے طلبہ کے لیے ایک ایسے تعلیمی نظام کا آغاز کیا ہے جس کا مقصد تعلیمی دباؤ کو کم کرنا اور طلبہ کی ذہنی صحت کا تحفظ کرنا ہے۔ حالیہ برسوں کے دوران طلبہ میں بڑھتے ہوئے ذہنی دباؤ اور تناؤ کے پیش نظر یونیورسٹی انتظامیہ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ نئے داخل ہونے والے طلبہ کے پہلے سمسٹر کے تعلیمی نتائج یعنی ٹرانسکرپٹ میں روایتی گریڈز یا نمبرز کو ظاہر نہیں کیا جائے گا۔ انتظامیہ کا ماننا ہے کہ یونیورسٹی کی سطح پر منتقلی کا پہلا مرحلہ طلبہ کے لیے انتہائی مشکل ہوتا ہے اور گریڈز کی فکر انہیں ذہنی طور پر بیمار کر دیتی ہے۔
یورسٹی کی ویب سائٹ پر جاری کردہ تفصیلات کے مطابق اس پالیسی کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ نوجوان طلبہ بغیر کسی خوف کے نئی تعلیمی فضا میں خود کو ڈھال سکیں۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ جامعہ میں قدم رکھتے ہی پہلے سمسٹر کے نمبرز حاصل کرنے کی دوڑ طلبہ کو ڈپریشن اور شدید بے چینی میں مبتلا کر دیتی ہے۔ اس نئے اقدام سے طلبہ کو یہ موقع ملے گا کہ وہ نمبروں کی اندھی دوڑ میں پڑنے کے بجائے طویل المدتی سیکھنے کے عمل پر توجہ مرکوز کریں۔
اس فیصلے پر تعلیمی حلقوں میں ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ جہاں ایک طرف ماہرینِ نفسیات اور طلبا کے حقوق کے حامی اس قدم کو سراہ رہے ہیں اور اسے نوجوان نسل کی ذہنی صحت کے لیے انتہائی ضروری قرار دے رہے ہیں، وہیں دوسری طرف روایتی ماہرین تعلیم اس پر تنقید بھی کر رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ گریڈز کے بغیر طلبہ میں مسابقت کا جذبہ ختم ہو سکتا ہے اور وہ عملی دنیا کے سخت مقابلوں کے لیے تیار نہیں ہو پائیں گے۔
تاہم یونیورسٹی انتظامیہ اپنے اس فیصلے پر اٹل دکھائی دیتی ہے اور اس کا ماننا ہے کہ ایک صحت مند ماحول ہی اچھے اور قابلِ اعتماد ماہرینِ معاشرہ پیدا کر سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ پالیسی دیگر امریکی یا بین الاقوامی یونیورسٹیوں کے لیے بھی ایک مثال بنتی ہے یا نہیں۔