LIVE
Loading Breaking News...

وزارت سائنس کا ریسرچ فنڈ کے انتخاب پر مؤقف

News Image
وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی نے ریسرچ، ڈیولپمنٹ اینڈ انوویشن فنڈ کے انتخاب کے عمل کا دفاع کرتے ہوئے تمام اعتراضات مسترد کر دیے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پینل میں شامل ماہرین ممکنہ مفادات کے ٹکراؤ سے بچنے کے لیے خود کو کارروائی سے الگ کر لیتے ہیں۔
اسلام آباد (نیکزورا نیوز اردو) وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کے اعلیٰ حکام نے حال ہی میں ریسرچ، ڈیولپمنٹ اینڈ انوویشن (آر ڈی آئی) فنڈ کے انتخاب کے عمل پر اٹھنے والے سوالات اور مفادات کے ٹکراؤ کے تمام الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ وزارت کی جانب سے جاری کردہ بیان میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ فنڈز کی تقسیم اور پینل کی تشکیل میں تمام بین الاقوامی اور ملکی ضابطہ کار کی سختی سے پاسداری کی گئی ہے تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ حکام کا مزید کہنا تھا کہ سلیکشن پینل میں ملک کے نامور اور مستند ماہرین شامل ہیں جو کہ کسی بھی ممکنہ مفادات کے ٹکراؤ (Conflict of Interest) کی صورت میں خود کو متعلقہ پروجیکٹ کی جانچ پڑتال یا ووٹنگ کے عمل سے فوری طور پر الگ کر لیتے ہیں۔ اس طریقہ کار کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ فنڈز صرف اور صرف میرٹ کی بنیاد پر انتہائی قابل اور مستحق تحقیقی منصوبوں کو ہی فراہم کیے جائیں، جس سے ملکی سطح پر سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے کو فروغ مل سکے۔ وزارت کا یہ بھی ماننا ہے کہ اس قسم کے الزامات کا مقصد فنڈنگ کے اس اہم عمل کو متنازع بنانا ہے جو دراصل ملک میں تحقیقی کلچر کو پروان چڑھانے کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ حکام نے یقین دلایا ہے کہ حکومت شفافیت کے اصولوں پر کاربند ہے اور مستقبل میں بھی تحقیقی اداروں اور سائنسدانوں کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھے گی تاکہ پاکستان میں جدت اور تحقیق کے نئے دروازے کھل سکیں۔