World
امریکی جنرل کا ایران تنازع سے باہر نکلنے کا فیصلہ اور عسکری حدود
رپورٹس کے مطابق امریکی صدر کے اعلیٰ ترین جنرل ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ یا تنازع سے نکلنے کے لیے راستے تلاش کر رہے ہیں۔ امریکی عسکری اختیارات محدود ہونے کی وجہ سے یہ حکمت عملی زیر غور لائی جا رہی ہے۔
واشنگٹن سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، امریکی فوج کے اعلیٰ ترین حکام اور سرفہرست جنرل ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور ممکنہ فوجی تنازع سے باہر نکلنے کے لیے موزوں ترین راستے تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی عسکری قیادت اس حقیقت کا ادراک کر چکی ہے کہ خطے میں فضائی طاقت کی اپنی ایک مخصوص حدود ہیں اور اس کے ذریعے تمام اہداف کا حصول ممکن نہیں۔
سی این این اور دیگر بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکی عسکری اختیارات کے محدود ہونے کی وجہ سے اب ایک ایسا 'آف ریمپ' یا بچاؤ کا راستہ تلاش کیا جا رہا ہے جس سے واشنگٹن کو براہ راست اور طویل المدتی جنگ میں الجھنے سے بچایا جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران کے خلاف عسکری اقدامات کے طویل المدتی منفی اثرات ہو سکتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ پینٹاگون کے اندر سفارتی حل اور عسکری محاذ آرائی کو کم کرنے کے حوالے سے سنجیدہ سوچ بچار کا عمل جاری ہے۔
اس صورتحال میں امریکی فوجی حکمت عملی کے مرکز میں موجود اہم ترین شخصیات اس بات پر غور کر رہی ہیں کہ کس طرح تنازع کو مزید پھیلنے سے روکا جائے۔ اگرچہ خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے، لیکن امریکی عسکری حلقوں کی جانب سے اس قسم کے اشارے ملنا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ زمینی اور فضائی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسیوں میں تبدیلی لانے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔