LIVE
Loading Breaking News...

سعودی پاک ترکی معاہدہ اور آبنائے ہرمز سیکیورٹی فریم ورک

News Image
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے درمیان ایک نئے دفاعی معاہدے پر عالمی سطح پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز میں سیکیورٹی کے حوالے سے ایک نئے فریم ورک پر اتفاق کر لیا ہے۔
خطے میں جاری کشیدگی اور ایران کے خلاف جاری جنگ کے تناظر میں ایک انتہائی اہم سفارتی اور دفاعی پیشرفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے مابین طے پانے والے نئے دفاعی تعاون کے معاہدے پر بین الاقوامی سطح پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اس سہ فریقی معاہدے کا مقصد خطے میں سیکیورٹی کو مستحکم کرنا اور باہمی تعاون کو فروغ دینا ہے، تاہم خطے کے دیگر ممالک اس پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب، ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کے حوالے سے ایک اہم فریم ورک پر اتفاق کر لیا ہے۔ یہ خطہ عالمی تجارت اور خصوصاً تیل کی سپلائی کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ عمان اور ایران کے درمیان اس تازہ معاہدے کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو محفوظ بنانا اور کسی بھی ناگہانی بحران سے نمٹنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا ہے۔ دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ پیشرفت خطے میں سیکیورٹی کی صورتحال کو ایک نیا موڑ دے سکتی ہے۔ عالمی طاقتیں اور خطے کےمفاداتی ممالک اس تمام صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک طرف جہاں سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے مابین دفاعی روابط مضبوط ہو رہے ہیں، وہیں ایران اور عمان کا آبنائے ہرمز سیکیورٹی فریم ورک پر متفق ہونا خطے میں نئے عسکری و سفارتی بلاکس کی تشکیل کی غمازی کرتا ہے۔ آنے والے دنوں میں ان معاہدوں کے خطے کی سیاست اور جنگی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔