Technology
انسانوں کی کم ہوتی ہوئی ایجنسی اور تخلیقی جمود کا تجزیہ
موجودہ عہد میں انسانوں کی سوچنے اور خود فیصلے کرنے کی صلاحیت میں نمایاں کمی واقع ہو رہی ہے۔ اس تحریر میں تخلیقی جمود اور جدید مسائل پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
حالیہ دنوں میں مصنفین اور مفکرین کی جانب سے ایک دلچسپ بحث کا آغاز کیا گیا ہے جس میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ کس طرح جدید دور کے انسانوں میں خود فیصلے کرنے اور تخلیقی عمل کو آگے بڑھانے کی صلاحیت کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس موضوع پر مختلف تحریروں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بہت سے لوگ کسی بھی کام کو شروع کرنے میں شدید ذہنی رکاوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں اور وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں کہ آخر ان کی پیش رفت کیوں رک گئی ہے۔ ہنری فیرل اور ایلن مور کے خیالات کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جب انسان اپنے فیصلے خود کرنے کے بجائے بیرونی حالات یا نظام پر انحصار کرنا شروع کر دیتا ہے تو اس کی ذاتی ایجنسی یا قوتِ ارادی کمزور پڑ جاتی ہے۔ ڈیجیٹل دور میں جہاں سہولتیں بہت زیادہ بڑھ گئی ہیں، وہیں انسانی دماغ کی خود مختارانہ سوچ کو بھی شدید دھکا لگا ہے۔ ہم اکثر ایسے مسائل کا شکار ہوتے ہیں جہاں خیالات تو موجود ہوتے ہیں لیکن انہیں عملی جامہ پہنانے کے لیے درکار حوصلہ اور ارتکاز غائب ہوتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف انفرادی سطح پر بلکہ اجتماعی سطح پر بھی تخلیقی زوال کا پیش خیمہ ثابت ہو رہی ہے۔ اس ضمن میں ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانوں کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے روایتی سوچ کے دائرے سے باہر نکلنا ہوگا اور خود اعتمادی کو فروغ دینا ہوگا۔ جب تک لوگ اپنے فیصلے خود کرنے کی عادت کو دوبارہ بحال نہیں کریں گے، تب تک اس ذہنی جمود سے نکلنا ناممکن رہے گا۔