LIVE
Loading Breaking News...

یو پی آئی مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ اور نیا بل: اہم سوالات اور جوابات

News Image
لوک سبھا نے ٹیکسیشن اینڈ ادر لاز ترمیمی بل منظور کر لیا ہے جس کے تحت یو پی آئی پر مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ کی واپسی کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ اس فیصلے کے بعد صارفین اور تاجروں کے لیے آپریٹنگ اخراجات اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے مستقبل کے حوالے سے اہم سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
نئی دہلی میں لوک سبھا کی جانب سے 6 اگست کو ٹیکسیشن اینڈ ادر لاز (ترمیمی) بل 2026 کی منظوری کے بعد ملک بھر میں ڈیجیٹل ادائیگیوں بالخصوص یو پی آئی (UPI) کے نظام میں ایک اہم تبدیلی کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ اس بل کے تحت پیمنٹ اینڈ سیٹلمنٹ سسٹمز ایکٹ 2007 میں ترامیم کی گئی ہیں، جو حکومت کو یہ اختیار دیتی ہیں کہ وہ یو پی آئی پر مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ (MDR) کو دوبارہ نافذ کر سکے۔ اس پیش رفت نے ڈیجیٹل معیشت سے وابستہ افراد، تاجروں اور عام صارفین میں نئی بحث کو جنم دیا ہے کیونکہ ماضی میں یو پی آئی کی تمام ٹرانزیکشنز صفر ایم ڈی آر کے ساتھ چل رہی تھیں، جس سے صارفین کو بڑی سہولت حاصل تھی۔ مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ کے ممکنہ نفاذ کے بعد سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس کی حتمی قیمت عام صارفین کو چکانی پڑے گی یا اس کا سارا بوجھ تاجروں پر آئے گا۔ ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ ایم ڈی آر بنیادی طور پر وہ فیس ہے جو مرچنٹ یا تاجر اپنے کاروبار پر ڈیجیٹل پیمنٹ قبول کرنے کے بدلے بینک یا پیمنٹ گیٹ وے کو ادا کرتا ہے۔ ماضی میں حکومت کی جانب سے اس کی سبسڈی فراہم کی جاتی تھی تاکہ ڈیجیٹل کلچر کو فروغ دیا جا سکے، تاہم اب بڑھتے ہوئے آپریٹنگ اخراجات اور انفراسٹرکچر کو برقرار رکھنے کے لیے فنانشل اداروں اور بینکوں کی طرف سے دباؤ بڑھ رہا تھا کہ اس سسٹم کو مالی طور پر پائیدار بنایا جائے۔ اس نئے بل اور ممکنہ ایم ڈی آر پالیسی کے نفاذ سے متعلق حکومت اور متعلقہ اداروں کا مؤقف ہے کہ اس کا مقصد ڈیجیٹل پیمنٹ ایکو سسٹم کے تمام اسٹیک ہولڈرز، بشمول بینکس اور فن ٹیک کمپنیوں کے مالیاتی توازن کو برقرار رکھنا ہے۔ تاہم، صارفین اس بات سے فکرمند ہیں کہ آیا چھوٹے پیمانے کی ادائیگیوں پر بھی کوئی چارج لاگو ہو گا یا نہیں۔ حکومت اور ریگولیٹری ادارے اس بات کو یقینی بنانے پر غور کر رہے ہیں کہ عام آدمی پر براہ راست بوجھ نہ پڑے اور چھوٹے تاجروں کو بھی چھوٹ فراہم کی جائے، لیکن حتمی قواعد و ضوابط کے نفاذ کے بعد ہی صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔