World
لیپزگ ہوائی اڈا: جرمنی میں سکیورٹی کی خامی اور خوش قسمتی کا انکشاف
جرمنی کے لیپزگ ہوائی اڈے پر پیش آنے والے ایک سنگین واقعے میں ناقص آلات کے باعث تباہی سکیورٹی انتظامات کے بجائے محض قسمت کی مہربانی سے ٹل گئی۔ چانسلر فریڈرک مرز نے اس ہنگامی صورتحال کے پیش نظر اپنی تعطیلات ملتوی کر کے ایک خفیہ اجلاس طلب کیا۔
جرمنی کے لیپزگ ہوائی اڈے پر پیش آنے والے ایک انتہائی خطرناک واقعے کے بعد یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ملک کو ایک بہت بڑی تباہی سے بچانے میں حکومتی سکیورٹی کا نہیں بلکہ محض اتفاق اور قسمت کا ہاتھ تھا۔ اس سنگین صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ چانسلر فریڈرک مرز نے اپنی جاری تعطیلات کو فوری طور پر معطل کرتے ہوئے جمعہ کے روز ایک ہنگامی اور انتہائی خفیہ اجلاس طلب کیا۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ منگل کی رات پیش آنے والے اس واقعے میں ایک ناقص ڈیوائس یا نظام نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا، جس کے نتیجے میں ہوائی اڈے پر حالات انتہائی نازک ہو گئے تھے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حالات تھوڑے سے بھی مختلف ہوتے تو ملک کو ایک ایسی ہوائی آفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا جس کے اثرات طویل عرصے تک محسوس کیے جاتے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ موجودہ حفاظتی نظام میں کئی طرح کی خامیاں اور نقائص پائے جاتے ہیں جنہیں فوری طور پر دور کرنے کی ضرورت ہے۔ اس واقعے نے نہ صرف ہوائی اڈوں کی انتظامیہ کو ہلا کر رکھ دیا ہے بلکہ وفاقی حکومت کے اعلیٰ حکام کو بھی سخت تشویش میں مبتلا کر دیا ہے کیونکہ ہوائی سفر کی حفاظت کے بلند و بانگ دعوے اس واقعے کے بعد دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔
چانسلر فریڈرک مرز کی زیر صدارت ہونے والے اس خفیہ اجلاس میں اس بات کا گہرائی سے جائزہ لیا گیا کہ آخر یہ خرابی کیسے پیدا ہوئی اور اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ اجلاس کے دوران تمام متعلقہ اداروں کے سربراہان نے بریفنگ دی اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ملک کے اہم ترین بنیادی ڈھانچے، بالخصوص ہوائی اڈوں کی سکیورٹی کو از سر نو مانیٹر کیا جائے۔ حکومت کی جانب سے اس واقعے کے بعد ملک بھر میں سیکورٹی کے معیارات کو سخت کرنے اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے نئے پروٹوکولز تیار کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں تاکہ مستقبل میں اس قسم کے حادثات سے بچا جا سکے۔