LIVE
Loading Breaking News...

ڈونلڈ ٹرمپ کا اے آئی انڈسٹری اور امریکی کانگریس سے متعلق بڑا بیان

News Image
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکی کانگریس ارٹیفیشل انٹیلی جنس یعنی اے آئی کی صنعت کو کڑے ضوابط کے ذریعے ختم کرنے کی خواہشمند ہے۔ ان کے اس بیان سے واشنگٹن میں ٹیکنالوجی کے مستقبل اور ضابطہ بندی پر جاری مباحثہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔
واشنگٹن میں مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی صنعت کے مستقبل اور اس کے قواعد و ضوابط کے حوالے سے گرما گرم بحث کا آغاز ہو چکا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں دیے گئے ایک انٹرویو کے دوران دعویٰ کیا ہے کہ امریکی کانگریس کے اندر کچھ حلقے ایسے ہیں جو مصنوعی ذہانت کی اس تیزی سے ابھرتی ہوئی صنعت کو کڑے اور سخت ضوابط کے شکنجے میں جکڑ کر اسے عملی طور پر کاروباری دوڑ سے باہر کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے اس مؤقف نے واشنگٹن کے سیاسی اور تکنیکی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کیونکہ ملک میں اس بات پر پہلے ہی شدید اختلافات پائے جاتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کی جدت کو فروغ دینے اور اسے کنٹرول کرنے کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے۔ جمعہ کے روز شائع ہونے والے اس انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے نشاندہی کی کہ اے آئی انڈسٹری اس وقت دنیا بھر میں معاشی اور تکنیکی ترقی کا ایک بڑا مرکز بن چکی ہے، لیکن واشنگٹن میں بیٹھے پالیسی ساز اس کی تیز رفتار ترقی سے خائف دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے مطابق، اگر اس صنعت پر ضرورت سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں تو اس سے نہ صرف امریکہ میں تکنیکی جدت کا عمل سست پڑ جائے گا بلکہ عالمی سطح پر ملک کی برتری بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب قانون سازوں کی جانب سے اے آئی کے ممکنہ خطرات کو روکنے کے لیے مختلف بل اور ضوابط پیش کیے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب، واشنگٹن کے دیگر سیاسی رہنماؤں اور ریگولیٹرز کا اصرار ہے کہ مصنوعی ذہانت کے بے لگام استعمال سے سیکیورٹی، ڈیٹا پرائیویسی اور اخلاقیات سے جڑے سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے مؤثر قانون سازی ناگزیر ہے۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ بغیر کسی نگرانی کے اے آئی کو چھوڑ دینا معاشرے کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم، ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان ان کاروباری رہنماؤں اور تکنیکی ماہرین کے لیے ایک حوصلہ افزا آواز کی حیثیت رکھتا ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ زیادہ ضابطہ بندی نئی ٹیکنالوجیز کا گلا گھونٹ سکتی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس مباحثے کے مزید شدت اختیار کرنے کا امکان ہے کیونکہ کانگریس میں اس اہم موضوع پر مزید مباحثے متوقع ہیں۔