LIVE
Loading Breaking News...

امریکی کانگریس رکن اپریل میک کلین ڈیلانی کی اے آئی اسٹاکس میں سرمایہ کاری

News Image
امریکی کانگریس کی رکن اپریل میک کلین ڈیلانی نے تقریباً چودہ لاکھ ڈالر مالیت کے نئے اسٹاکس خریدے ہیں۔ ان کی یہ سرمایہ کاری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وہ ہاؤس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کمیٹی کی رکن بھی ہیں۔
امریکی کانگریس کی رکن اپریل میک کلین ڈیلانی نے हाल ही में تقریباً چودہ لاکھ ڈالر مالیت کے نئے اسٹاکس کی خرید و فروخت کا انکشاف کیا ہے جس نے وال اسٹریٹ اور مالیاتی منڈیوں کی توجہ اپنی جانب کھینچ لی ہے۔ ان کی جانب سے کی جانے والی یہ سرمایہ کاری خاص طور پر مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی اور نیوکلیئر انرجی کے شعبوں سے جڑی کمپنیوں میں کی گئی ہے، جو دنیا بھر میں اس وقت انتہائی گرم موضوعات ہیں۔ اس معاملے کی اہمیت اس وجہ سے بھی بڑھ جاتی ہے کیونکہ اپریل میک کلین ڈیلانی امریکی ایوان نمائندگان کی سائنس، اسپیس اور ٹیکنالوجی کمیٹی کی رکن ہیں۔ اس کمیٹی کا بنیادی کام ملک میں سائنسی پالیسیوں اور ٹیکنالوجی کے شعبے سے متعلق قوانین کی نگرانی کرنا ہے۔ مالیاتی امور کے ماہرین اور ہیج فنڈز کے مینیجرز اس صورتحال پر دو حصوں میں تقسیم نظر آتے ہیں، کچھ حلقے اسے پالیسی سازوں کے اندرونی اثر و رسوخ کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ دوسری جانب، سیاسی شفافیت کے حامی اداروں اور فلاحی تنظیموں نے اس قسم کی ٹریڈنگ پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پالیسی سازوں کا براہ راست ان صنعتوں میں سرمایہ کاری کرنا جن کے ضوابط وہ خود طے کرتے ہیں، مفادات کے ٹکراؤ کا باعث بن سکتا ہے۔ اگرچہ قانون کے مطابق یہ تمام انکشافات مقررہ وقت پر کیے گئے ہیں، تاہم عام شہریوں اور سرمایہ کاروں کی طرف سے اس پر بحث جاری ہے۔ وال اسٹریٹ کے تجارتی حلقے اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا ان سرمایہ کاریوں سے مستقبل میں ان کمپنیوں کو کوئی ریگولیٹری فائدہ مل سکتا ہے یا نہیں۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید سیاسی مباحثے متوقع ہیں کیونکہ قانون سازوں کے مالیاتی اثاثوں کی جانچ پڑتال کا عمل اب پہلے سے زیادہ سخت ہو چکا ہے۔