LIVE
Loading Breaking News...

کینیڈا کی خلائی صنعت اور اسپیس ایکس کے رائڈ شیئرنگ پروگرام کا مستقبل

News Image
ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کی جانب سے رائڈ شیئرنگ پروگرام میں کمی کی اطلاعات کے بعد کینیڈا کی خلائی صنعت کو نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس صورتحال سے کینیڈین خلائی سیکٹر کے لیے طویل المدتی بنیادوں پر نئے مواقع یا مشکلات دونوں جنم لے سکتی ہیں۔
حال ہی میں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق ایلون مسک کی معروف راکٹ کمپنی اسپیس ایکس نے اپنے رائڈ شیئرنگ پروگرام کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد کینیڈا کی ابھرتی ہوئی خلائی صنعت کو شدید نوعیت کے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ کینیڈا کے خلائی ادارے اور نجی کمپنیاں طویل عرصے سے اپنے سیٹلائٹس اور خلائی آلات کو خلاء میں بھیجنے کے لیے اسپیس ایکس کے سستے اور قابلِ اعتماد رائڈ شیئرنگ مشنز پر انحصار کرتی رہی ہیں۔ اب جب کہ یہ راستہ محدود یا غیر یقینی ہو رہا ہے، کینیڈین ماہرینِ فلکیات اور صنعت کار تشویش میں مبتلا ہیں کہ ان کے پے لوڈز کو خلاء تک کیسے پہنچایا جائے گا۔ کینیڈا کی خلائی صنعت میں گزشتہ چند سالوں کے دوران زبردست ترقی دیکھنے میں آئی ہے، جہاں چھوٹے سیٹلائٹس کی تیاری اور خلاء سے متعلقہ ڈیٹا سروسز فراہم کرنے والے درجنوں اسٹارٹ اپس نے نمایاں مقام بنایا ہے۔ ان میں سے بیشتر کمپنیوں کے پاس اپنے ذاتی راکٹ لانچ کرنے کی صلاحیت موجود نہیں ہے، اور وہ اپنے پروجیکٹس کے لیے بین الاقوامی لانچ فراہم کنندگان پر انحصار کرتی ہیں۔ اسپیس ایکس کے پروگرام میں کمی نہ صرف کینیڈین کمپنیوں کے شیڈول کو تاخیر کا شکار کر سکتی ہے بلکہ ان کے اخراجات میں بھی کئی گنا اضافہ کا سبب بن سکتی ہے، جس سے ان کی عالمی مارکیٹ میں مسابقت کی صلاحیت متاثر ہوگی۔ تاہم، اس صورتحال کا ایک روشن پہلو یہ بھی ہے کہ کینیڈین حکومت اور مقامی نجی سرمایہ کار اب اپنے دیسی اور خود کفিল خلائی انفراسٹرکچر پر توجہ مرکوز کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بحران کینیڈا کے لیے ایک سنہری موقع ثابت ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے خلائی لانچ کے متبادل ذرائع تلاش کرے اور مقامی سطح پر راکٹ سازی کی صنعت کو فروغ دے۔ اگر کینیڈا اس کٹھن دور میں اپنے لیے خود مختار خلائی رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو طویل مدت میں اس کی خلائی معیشت مزید مستحکم اور مضبوط ہو جائے گی۔