World
بھارت میں مظاہرین پر فائرنگ: پولیس اہلکار معطل
بھارتی حکام نے ایک ایسے پولیس اہلکار کو معطل کر دیا ہے جس نے طالب علم مظاہرین کے خلاف اے کے 47 رائفل سے براہ راست فائرنگ کی تھی۔ اس واقعے کے بعد ملک بھر میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے اور ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
بھارت میں حکام نے ایک ایسے پولیس اہلکار کو فوری طور پر معطل کر دیا ہے جس نے پرامن طالب علم مظاہرین پر اے کے 47 رائفل سے فائرنگ کی تھی۔ یہ واقعہ ملک میں بڑھتے ہوئے سیاسی اور سماجی تناؤ کے تناظر میں پیش آیا، جہاں طلباء اپنے مطالبات کے حق میں سڑکوں پر نکلے ہوئے تھے۔ پولیس کی جانب سے طاقت کے اس اندھا دھند استعمال نے انسانی حقوق کی تنظیموں اور عام شہریوں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، مظاہرین اپنے جائز حقوق اور مطالبات کی منظوری کے لیے احتجاج کر رہے تھے کہ اچانک سکیورٹی فورسز کے ایک اہلکار نے اشتعال میں آ کر اپنی سرکاری خودکار رائفل سے فائرنگ شروع کر دی۔ خوش قسمتی سے اس فائرنگ میں کسی بڑے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم اس بہیمانہ اقدام کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ملک بھر میں شدید ہنگامہ برپا ہو گیا۔ واقعے کی سنگین نوعیت کو دیکھتے ہوئے اعلیٰ پولیس حکام نے فوری نوٹس لیا اور متعلقہ اہلکار کو معطل کر کے اس کے خلاف محکمانہ انکوائری کا آغاز کر دیا ہے۔ معطلی کے بعد اب اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا اس اہلکار نے اپنے طور پر یہ انتہائی قدم اٹھایا یا اسے کسی اعلیٰ افسر کی طرف سے احکامات ملے تھے۔ سول سوسائٹی اور طلباء تنظیموں نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ صرف معطلی کافی نہیں ہے بلکہ ملوث اہلکار کے خلاف قتل کی کوشش اور سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے اسے کٹہرے میں لایا جائے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے واقعات سے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر عوام کا اعتماد مزید متزلزل ہوتا ہے اور حکومت کو چاہیے کہ وہ پولیس فورس میں نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات اٹھائے۔