Business
بلیک راک کے رک ریڈر کی نظر میں جولائی کی ملازمتوں کی رپورٹ اور پیداواری انقلاب
بلیک راک کے ایگزیکٹو رک ریڈر نے حالیہ جولائی کی ملازمتوں کی رپورٹ کو معمولی قرار دیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ معاشی صحت کے پیمانے اب روایتی روزگار کے اعداد و شمار کے بجائے پیداواری انقلاب کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔
عالمی سطح پر سرمایہ کاری کے معروف ادارے بلیک راک کے گلوبل فکسڈ انکم کے چیف انویسٹمنٹ آفیسر رک ریڈر نے حال ہی میں جاری ہونے والی جولائی کی ملازمتوں کی رپورٹ کو غیر معمولی قرار دینے سے گریز کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ معاشی صورتحال کا احاطہ کرنے کے لیے اب روایتی اشاریوں کے علاوہ دیگر اہم عوامل کو بھی دیکھنا ہوگا۔ رک ریڈر کے مطابق، موجودہ دور میں معاشی صحت کو جانچنے کے پیمانے تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں اور ہمیں محض روایتی روزگار کے اعداد و شمار تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ دنیا بھر میں ٹیکنالوجی اور ورک کلچر میں ہونے والی تبدیلیوں کی وجہ سے ایک نیا پیداواری انقلاب جنم لے رہا ہے۔
اس نئے پیداواری انقلاب کے اثرات براہ راست سرمایہ کاری کی حکمت عملیوں پر پڑ رہے ہیں۔ رک ریڈر نے اس بات پر زور دیا ہے کہ جدید دور میں کمپنیاں کم افرادی قوت کے ساتھ زیادہ پیداوار حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، جس کی وجہ سے روایتی روزگار کے اعداد و شمار معیشت کی درست تصویر پیش کرنے میں ناکام ہو سکتے ہیں۔ اس رجحان نے اقتصادی ماہرین کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آیا مستقبل میں معاشی ترقی کا انحصار صرف ملازمتوں کی تخلیق پر ہوگا یا پھر فی کس پیداوار اور ٹیکنالوجی کے استعمال پر۔
بلیک راک کے اس اعلیٰ عہدیدار کا تجزیہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی معیشت بلند شرح سود اور مہنگائی جیسے چیلنجز سے نبرد آزما ہے۔ سرمایہ کار اور مالیاتی ادارے مستقبل کی حکمت عملی تیار کرتے وقت ان تمام متغیرات کو مدنظر رکھ رہے ہیں۔ اگر پیداواری انقلاب کا یہ تسلسل جاری رہا تو پالیسی سازوں کو بھی معاشی صحت کی پیمائش کے لیے نئے میٹرکس متعارف کرانا ہوں گے۔ رک ریڈر کا یہ بیان اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ کاروباری دنیا اور مالیاتی منڈیوں کو روایتی طریقوں سے آگے بڑھ کر جدید معاشی حقائق کو قبول کرنا ہوگا۔