LIVE
Loading Breaking News...

سافٹ ویئر اسٹاکس میں شاندار تیزی، اٹلاسیئن اور ٹویلیو کے شیئرز میں بڑا اضافہ

News Image
بین الاقوامی مارکیٹ میں سافٹ ویئر کمپنیوں کے حصص میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کی بنیادی وجہ بہترین مالیاتی نتائج اور مثبت کاروباری توقعات ہیں۔ اس تیزی کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے اور معروف فرمز کے شیئرز نئی بلندیوں کو چھو رہے ہیں۔
عالمی مالیاتی مارکیٹ میں سافٹ ویئر اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ سے وابستہ کمپنیوں کے حصص میں ایک پرجوش تیزی کا مشاہدہ کیا گیا ہے، جس نے سرمایہ کاروں کو شدید خوشگوار حیرت میں ڈال دیا ہے۔ تازہ ترین کاروباری اعداد و شمار کے مطابق، اٹلاسیئن (Atlassian) کے اسٹاک میں 34 فیصد کا شاندار اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ ٹویلیو (Twilio) نے بھی پیچھے نہ رہتے ہوئے 27 فیصد کی بڑی چھلانگ لگائی ہے۔ اس کے علاوہ کلاؤڈ فلئیر (Cloudflare) کے حصص بھی 9 فیصد اضافے کے ساتھ مثبت زون میں بند ہوئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اچانک اور زبردست تیزی کی بنیادی وجہ ان بڑی کمپنیوں کی جانب سے حالیہ سہ ماہی کے دوران توقعات سے بڑھ کر شاندار مالیاتی نتائج کا پیش کیا جانا ہے۔ کمپنیوں کی جانب سے جاری کردہ ان رپورٹس میں نہ صرف منافع میں اضافے کی نوید سنائی گئی ہے بلکہ مستقبل کے لیے ان کے کاروباری تخمینوں اور ترقیاتی اہداف کو بھی اوپر کی طرف نظرثانی کیا گیا ہے۔ بینک آف امریکہ کی جانب سے ان اسٹاکس کے لیے مثبت ریٹنگز اور اپ گریڈز نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے، جس کی وجہ سے ادارہ جاتی اور انفرادی دونوں طرح کے سرمایہ کاروں نے ان کمپنیوں میں بڑھ چڑھ کر سرمایہ کاری کی ہے۔ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں چیلنجز کے باوجود، وہ کمپنیاں جو اپنے صارفین کے لیے بہتر اور پائیدار حل فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، وہ طویل المدتی بنیادوں پر مارکیٹ میں سب سے آگے رہیں گی۔ اس رجحان نے وسیع تر ٹیکنالوجی انڈیکس پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں اور مجموعی طور پر مارکیٹ کے مورال کو بلند کیا ہے۔ سرمایہ کار اب اس بات پر زیادہ یقین رکھتے ہیں کہ ڈیجیٹل تبدیلی اور کلاؤڈ سروسز کی مانگ آنے والے مہینوں میں بھی بلند رہے گی، جو ان کمپنیوں کے منافع کو مزید سہارا دے گی۔ اس تیزی کے بعد، ماہرین اقتصادیات نے امید ظاہر کی ہے کہ دیگر سافٹ ویئر کمپنیاں بھی اپنے آنے والے مالیاتی دور میں اسی طرح کی مثبت کارکردگی کا مظاہرہ کریں گی، جس سے عالمی سطح پر اسٹاک مارکیٹوں کو مزید استحکام اور تحریک ملے گی۔