AI
مصنوعی ذہانت کے ذریعے بالکل نئے وائرسز کی تخلیق
سائنسدانوں نے پہلی بار ایک ایسے مصنوعی ذہانت کے ماڈل کا استعمال کیا ہے جس نے مکمل طور پر نئے اور قدرتی طور پر نامعلوم وائرسز ایجاد کیے ہیں۔ اس سائنسی پیش رفت نے دنیا بھر میں سائنسی برادری کے اندر ایک نئی بحث اور خدشات کو جنم دے دیا ہے۔
سائنس اور ٹیکنالوجی کی دنیا سے ایک انتہائی حیرت انگیز اور تشویشناک خبر سامنے آئی ہے جہاں محققین نے پہلی بار ایک ایسے مصنوعی ذہانت کے ماڈل کا کامیاب استعمال کیا ہے جس نے بالکل نئے اور قدرت میں پہلے کبھی نہ پائے جانے والے وائرسز تخلیق کیے ہیں۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا بھر میں اے آئی کی صلاحیتوں اور اس کے ممکنہ خطرات پر پہلے ہی گہری بحث جاری ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ ٹیکنالوجی جہاں ایک طرف طب اور سائنس کے شعبوں میں انقلاب برپا کر سکتی ہے، وہیں دوسری طرف اس کے غلط استعمال کے سنگین نتائج بھی ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس جدید تجربے میں مصنوعی ذہانت کے الگورتھم نے روایتی حیاتیاتی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے ایسے جراثیم اور وائرس سٹرکچرز بنائے ہیں جو ارتقائی عمل کا حصہ نہیں رہے اور مکمل طور پر مصنوعی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کی ٹیکنالوجی کے ذریعے مستقبل میں خطرناک بیماریاں پھیلنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے اگر اس پر مناسب حکومتی اور بین الاقوامی ضابطے نافذ نہ کیے گئے۔ اس دریافت نے بایو سیکیورٹی کے اداروں کو بھی ہائی الرٹ کر دیا ہے کیونکہ مصنوعی طور پر بننے والے یہ وائرس انسانی صحت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتے ہیں۔
دوسری جانب، اس ٹیکنالوجی کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ اس قسم کے ماڈلز کا مقصد ممکنہ وائرل خطرات سے نمٹنے کے لیے پیشگی ادویات اور ویکسین تیار کرنا ہے۔ مصنوعی ذہانت کی مدد سے سائنسدان اب ان وائرسز کی ساخت کا مطالعہ کر سکتے ہیں جو مستقبل میں قدرتی طور پر نمودار ہو سکتے ہیں، جس سے ہمیں وائرل وباء کے خلاف دفاعی صلاحیت مضبوط کرنے میں مدد ملے گی۔ تاہم، اس کے باوجود سائنسی حلقوں میں اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی نگرانی اور سخت ضابطہ اخلاق انتہائی ضروری ہے تاکہ یہ انسان دوستی کی بجائے کسی نقصان کا باعث نہ بنے۔