LIVE
Loading Breaking News...

ریپرز فینیکس فلیکس اور ٹائیگا کا گانوں میں AI کے استعمال کا اعتراف

News Image
مشہور ریپرز فینیکس فلیکس اور ٹائیگا نے بالآخر اپنے حالیہ میوزک پراجیکٹس میں مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے استعمال کا اعتراف کر لیا ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کس طرح جدید ٹیکنالوجی اب تیزی سے موسیقی کی صنعت پر اثر انداز ہو رہی ہے۔
مصنوعی ذہانت یا اے آئی (AI) اب نہ صرف عام زندگی بلکہ تفریح اور موسیقی کی دنیا میں بھی اپنے پاؤں تیزی سے جما رہی ہے، اور حالیہ رپورٹس کے مطابق یہ اب میوزک چارٹس تک رسائی حاصل کر چکی ہے۔ معروف ریپر فینیکس فلیکس (Fenix Flexin) اس بات سے مسلسل انکار کرتے رہے تھے کہ ان کا مقبول گانا 'RUBBERZ' مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کیا گیا تھا، تاہم اب انہوں نے بالآخر اس حقیقت کا اعتراف کر لیا ہے۔ ان کے علاوہ ایک اور نامور ریپر ٹائیگا (Tyga) نے بھی اپنے حالیہ کام میں اے آئی کے استعمال کی تصدیق کر دی ہے۔ موسیقی کے شائقین اور ماہرین کے لیے یہ ایک بہت بڑا موڑ ہے کیونکہ اب روایتی گیت نگاری کے ساتھ ساتھ تکنیکی معاونت کا رحجان عام ہو رہا ہے۔ اس معاملے کے سامنے آنے کے بعد میوزک انڈسٹری میں ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے کہ آیا مصنوعی ذہانت کا استعمال فنکاروں کی تخلیقی صلاحیتوں کو بڑھا رہا ہے یا اس سے اصل فن کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ بہت سے فنکار اس نئی ٹیکنالوجی کو اپنے کام کو بہتر بنانے اور نئے تجربات کرنے کے ایک بہترین ذریعے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ دوسری طرف، نقادوں کا ماننا ہے کہ اے آئی کے بے دریغ استعمال سے موسیقی میں انسانی جذبے اور اصلیت کی کمی واقع ہو سکتی ہے۔ ٹیکنالوجی کمپنیوں اور میوزک پروڈیوسرز کے درمیان اس حوالے سے طویل بحثیں جاری ہیں کہ اے آئی ٹولز کاپی رائٹ اور اصل فنکاروں کے حقوق کو کیسے متاثر کر رہے ہیں۔ آنے والے وقتوں میں یہ دیکھنا انتہائی دلچسپ ہوگا کہ آیا موسیقی کے ادارے اور چارٹس مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کے لیے کوئی الگ ضابطہ اخلاق بناتے ہیں یا نہیں۔ فینیکس فلیکس اور ٹائیگا جیسے بڑے ناموں کی جانب سے اس کا اعتراف اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اب اے آئی کو موسیقی کی صنعت میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔