Business
سعودی عرب کا نیا آئل روٹ، اضافی لاگت اور اہمیت
سعودی عرب کی جانب سے خام تیل کی ترسیل کے لیے ایک نیا اور طویل سمندری و زمینی راستہ اختیار کیا جا رہا ہے جس پر فی بیرل پانچ ڈالر اضافی لاگت آ رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اضافی خرچ کے باوجود خطے میں سکیورٹی اور سپلائی چین کو مستحکم رکھنے کے لیے یہ فیصلہ انتہائی اہم اور سودمند ہے۔
عالمی توانائی کی منڈی میں سعودی عرب کی جانب سے تیل کی ترسیل کے لیے ایک ایسے روٹ کا انتخاب کیا گیا ہے جو نقشے پر انتہائی پیچیدہ اور طویل دکھائی دیتا ہے۔ اس نئے اور متبادل راستے کے تحت خام تیل کو سعودی عرب کے مغربی ساحل پر واقع ینبوع تک پہنچایا جاتا ہے، جہاں سے اسے بحیرہ احمر کے راستے شمال کی طرف روانہ کیا جاتا ہے۔ اس سفر کے بعد تیل کو مصری پائپ لائن سسٹم یعنی سومید (SUMED) پائپ لائن کے ذریعے عین سوخنہ سے سیدی کریر تک منتقل کیا جاتا ہے، اور پھر بحیرہ روم سے ہوتے ہوئے ٹینکرز اپنی منزل کی جانب روانہ ہوتے ہیں۔
اس طویل اور پیچیدہ لاجسٹک چین کی وجہ سے سعودی عرب کو فی بیرل خام تیل کی ترسیل پر تقریباً پانچ ڈالر اضافی لاگت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ عام کاروباری نقطہ نظر سے یہ روٹ غیر اقتصادی اور انتہائی مہنگا محسوس ہوتا ہے، تاہم توانائی کے امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ عالمی جغرافیائی سیاسی صورتحال میں یہ قدم غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ اس راستے کا بنیادی مقصد عالمی سپلائی چین کو کسی بھی ممکنہ بحران یا رکاوٹ سے محفوظ بنانا ہے تاکہ خریداروں تک تیل کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور سمندری گزرگاہوں میں سکیورٹی خدشات کے پیش نظر توانائی کمپنیاں اب روایتی اور کم لاگت راستوں کی بجائے زیادہ محفوظ متبادل تلاش کرنے پر مجبور ہیں۔ سعودی عرب کی جانب سے اس مہنگے روٹ کو اپنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ مملکت کے لیے کم خرچ سے زیادہ اہم اپنے تجارتی شراکت داروں کا اعتماد اور تیل کی سپلائی کی سکیورٹی ہے۔
اگرچہ یہ اضافی پانچ ڈالر فی بیرل لاگت ابتدائی طور پر بھاری محسوس ہوتی ہے، لیکن طویل المیعاد بنیادوں پر یہ حکمت عملی سعودی عرب کی برآمداتی ساکھ کو مضبوط کرنے میں مددگار ثابت ہو رہی ہے۔ دنیا بھر کے معاشی تجزیہ کار اس اقدام کو ایک دانشمندانہ فیصلہ قرار دے رہے ہیں جو مشکل وقت میں توانائی کی منڈی کو استحکام فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔